دل میں سرکار کی یادوں کو بسائے رکھا
خود کو بس نعت نگاری میں لگائے رکھا آپ کے نوُر سے ملتی رہی خامے کو ضیا اِک دیا آپ کی مدحت کا جلائے رکھا نامِ احمد کے سوا کچھ نہیں بھاتا مجھ کو بس اسی نام کو اس دل میں چُھپائے رکھا آپ آئیں گے کسی روز مرے گھر آقا اپنی پلکوں کو سرِ […]