دیتی نہیں ہیں جلوتیں راحت کبھی کبھی
دیتی ہے جو سکون یہ خلوت کبھی کبھی کب تک رہِ وصال میں بیٹھا رہے گا ، ہجر ! ’’ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی‘‘ جائیں گے ہم فقیر بھی بطحا میں ایک دن ملتی ہے اس خیال سے فرحت کبھی کبھی بن کے گدا جو آپ کے در پر ہیں جاگزیں پاتے […]