’’جوارِ گُنبدِ اَخضر میں رحمت کی چھما چھم ہے‘‘
درِ آقا پہ نُزہت ہے ، نظافت کی چھما چھم ہے مؤاخاتِ مدینہ کا عجب پُر کیف ہے منظر کہ انصار و مہاجر پر اخوّت کی چھما چھم ہے جہاں سدرہ پہ رک جاتے ہیں جبریلِ امیں جیسے وہاں پر بھی مرے آقا پہ رفعت کی چھما چھم ہے وہ جس ماحول میں کِذب و […]