راحت بجاں معطّر وہ دل فزا تھا ہاتھ

عنبر فشاں ہو جیسے وہ مخملیں سا ہاتھ جذبہ طلب کا مجھ میں ہوتا نہ تھا کبھی رحمت نے اس کی بڑھ کر تھاما تھا میرا ہاتھ گل کی لطافتیں ہیں جس پر نثار پیہم ہے کتنا نرم و نازک میرے نبی کا ہاتھ دامن میں لے کے خوشبو زلفِ حبیب کی خوشبوئیں بانٹتا ہے […]

کیا عزّ و شرف رکھتے ہیں مہمانِ مدینہ

جب عرش مکاں ہوتے ہیں مہمانِ مدینہ آتے ہیں یہاں صبح و مسا نوری ملائک اور نُور بہ جاں بستے ہیں مہمانِ مدینہ اک کیف چھلکتا ہے وہاں قلب و نظر سے سیرابیٔ جاں رکھتے ہیں مہمانِ مدینہ خاطر میں کہاں لائیں کبھی اہلِ دول کو قدموں میں شہی رکھتے ہیں مہمانِ مدینہ لفظوں سے […]

کھلا بابِ توفیقِ مدح و ثنا ہے عطائے محمد عطائے خدا ہے

یہ نعتوں کا جھرنا سا جو پھوٹتا ہے عطائے محمد عطائے خدا ہے دلوں میں محبت حبیبِ خدا کی لبوں پر ہے مدحت شہِ دوسرا کی سروں پر جو رحمت کی چھائی گھٹا ہے عطائے محمد عطائے خدا ہے ریاضِ مودّت کا منظر تو دیکھو سکوں ہی سکوں کی بہاریں کھلی ہیں معطّر معطّر دلوں […]

کعبہ سیاہ پوش ہے کس کے فراق میں

اسود جمال زاد ہے کس طرح طاق میں کعبے کی داستان ہو کیسے نہ دل ربا آتا ہے تیرا نام سیاق و سباق میں کیوں کر مطاف میں ہے اجالوں کا رتجگا ہے کس کا نام رکّھا ہوا دل کے طاق میں لمسِ لبِ حبیب کی سر مستی دیکھیے زم زم رواں ہے آج بھی […]

حضور آئے بہاروں پر عجب رنگِ بہار آیا

حضور آئے رُخِ ہستی پہ اک تازہ نکھار آیا حضور آئے مہ و خورشید تارے جگمگا اُٹھے حضور آئے تو ہر ذرّہ مثالِ زر نگار آیا حضور آئے تو خوشبوؤں کے نافے کھل گئے ہر سو ہر اک کوچہ ہر اک قریہ مہکتا مشکبار آیا حضور آئے تو انساں نے شعورِ زندگی پایا تو پھر […]

مہکے تمہاری یاد سے یوں قریۂ وجود

سانسیں پڑھیں سلام، پڑھیں دھڑکنیں درود شاخِ خیالِ شوق پہ ہو دید کا ثمر یوں کشتِ جاں میں نخلِ تمنّا کی ہو نمود چہرہ ہو سمتِ کعبہ تو دل ہو تری طرف کیف و سرور و نُور میں ڈوبے رہیں سجود عقل و دل و نگاہ کروں فرشِ راہ مَیں میرے خیامِ عجز میں گر […]

مسافرانِ رہِ مدینہ محبتوں کا سفر مبارک

سعادتوں کا نجابتوں کا مسرّتوں کا سفر مبارک وہ جس کے کانٹے گلاب جیسے وہ جس کے کنکر حریر و دیبا وہ راحتِ قلب و جاں میں ڈھلتی مشقتوں کا سفر مبارک ہوائیں جیسے مہک رہی ہوں فضائیں جیسے چمک رہی ہوں وہ رنگ و خوشبو میں تاباں فرحاں مسافتوں کا سفر مبارک وہ روح […]

یہ جو عشّاق ترے طیبہ میں آئے ہوئے ہیں

اپنی تقدیر ترے در پہ جگائے ہوئے ہیں سر پہ رکھے ہوئے ہیں عیب کی گٹھری لیکن سُن کے جاءوک وہ امید لگائے ہوئے ہیں ہم سے ناکارہ و مجرم بھی ہیں مہمانوں میں اور کچھ خاص ترے پیارے بھی آئے ہوئے ہیں یہ تری آل کے گوہر، یہ ترے نُورِ نظر بندہ پرور ہیں […]

جس نے یادوں میں ہمیں عرشِ خدا پر رکھا

ہم نے مشکل میں اسے حامی و یاور رکھا خیرہ کرتے بھی تو کیسے ہمیں مغرب کے چراغ سامنے ہم نے ہمیشہ رُخِ دلبر رکھا جان سرکار کے قدموں پہ نچھاور کردی دل بھی سرکار کی راہوں میں بچھا کر رکھا تجھ کو چاہا تجھے سوچا تجھے لکھا برسوں دید کی پیاس کو اکثر لبِ […]

رنگ ، خوشبو ، صبا ، خوش فضا آپ سے

حسن و خوبی کی ہر اِک ادا آپ سے مہر و احسان ، لطف و عطا آپ سے عدل ، انصاف ، عہد و وفا آپ سے چاند ، سورج ، کرن ، نکہتیں ، رونقیں چاندنی ، روشنی اور ضیا آپ سے حسنِ صوت و صدا ، رنگِ حرفِ دعا اوجِ صدق و صفا […]