از ازل تا بہ ابد اُن کے نگر سے فیضیاب

سارا عالم ہو رہا ہے اُن کے گھر سے فیضیاب آپ ہی کی ہے عنایت آپ ہی کا ہے کرم آرہے ہیں ہو کے سب بابِ اثر سے فیضیاب آپ جن راہوں سے گزرے خُلد کی راہیں بنیں حشر تک ہوں گے سبھی اُس رہ گزر سے فیضیاب کوئے طیبہ کے مکیں ہیں بخت کے […]

خدا کی برسے گی رحمت درودِ پاک پڑھو

جب آئے کوئی مصیبت درودِ پاک پڑھو اگر ہے اُن سے عقیدت درودِ پاک پڑھو بہ ذوق و شوق و محبّت درودِ پاک پڑھو مرے حضور کے صدقے کلامِ پاک میں بھی خدا نے بھیجی ہے آیت، درودِ پاک پڑھو دیا ہے حکم خدا نے یہ اپنے بندوں کو پڑھو نبی پہ بہ کثرت درودِ […]

اُن کی خوشبو جابجا ہے ، کیا زمیں کیا آسماں

مدحتِ خیر الورا ہے ، کیا زمیں کیا آسماں ہر زمانہ ہے اُنہی کا ہے ، اُنہی کی ہر صدی اُن کا سکّہ چل رہا ہے ، کیا زمیں کیا آسماں وہ بشر ہوں یا ملائک محوِ مدحت ہیں سبھی اُن کا چرچا ہو رہا ہے ، کیا زمیں کیا آسماں مسجدوں میں خانقاہوں میں […]

تخلیقِ دو عالَم کا سبب سیّدِ عالَم

تجھ سا نہ کوئی عالی نسب سیّدِ عالَم انساں ہی نہیں صرف ‘ ترے نور کے آگے جھکتے ہیں ملک بہر ادب سیّدِ عالَم کرتے گئے انساں کو حقیقت سے شناسا کھلتے گئے جب جب ترے لب سیّدِ عالَم سائل کو نہ تھی جنبشِ لب کی کوئی حاجت کی پوری کچھ اس طور طلب سیّدِ […]

مرا جو سرور و سلطان سے تعلق ہے

حقیقتاً یہی رحمٰن سے تعلق ہے بلندیِ شہ گردوں سے ہیں کہاں واقف وہ جن کا عالَمِ امکان سے تعلق ہے میں صحنِ خلد کا اِس واسطے بھی ہوں شیدا اسے مدینے کے بُستان سے تعلق ہے فراق طیبہ میں آنسو یونہی نہیں گرتے اس اضطراب کا وجدان سے تعلق ہے گدائے کوچۂ خیر البشر […]

ہو گیا روشن زمانہ تا ابد سرکار سے

پا گئے ہیں تاب و تب عقل و خرد سرکار سے کون ’’اَوْ اَدْنٰی‘‘ کی منزل کا ہوا ہے راز داں ہے بھلا اونچا جہاں میں کس کا قد سرکار سے کون رکھتا ہے بھلا سیرت مرے سرکار سی کس نے پائے ہیں جہاں میں خال و خد سرکار سے نے کسی کی آل اور […]

مائل بہ کرم شاہِ اُمم ہے کہ نہیں ہے؟

کیا ہرکس و ناکس کا بھرم ہے کہ نہیں ہے؟ ہے چشمِ کرم آپ کی اُمت پہ ہمیشہ اس لطف پہ سر اپنا بھی خم ہے کہ نہیں ہے؟ یہ راز کبھی آیۂ ’’میثاق‘‘ سے پوچھو اقرار نبی سب سے اہم ہے کہ نہیں ہے؟ لیتا ہے جو تُو نام محبت سے نبی کا کچھ […]

کہاں کہاں نہیں سرکارِ محترم پہنچے

شبِ عروج خدا تک شہِ اُمم پہنچے سحابِ رحمتِ سرکار کب نہیں برسے ؟ طلب تپش نے بڑھائی تو ایک دم پہنچے مرے حضور ہیں اس درجہ مہربان و شفیق کہ چاہتے نہیں اُمت کو کوئی غم پہنچے نہیں لگائی کبھی دیر دستگیری میں لگائی میں نے صدا جب کرم کرم! پہنچے یہ آرزو ہے […]

بہار آئی دِلوں پر مرے حضور آئے

گلوں کے دل ہیں معطّر مرے حضور آئے خوشی ہے چھائی ہوئی عاشقوں کے چہروں پر دلوں کا آسرا بن کر مرے حضور آئے وہی تو باعث تسکین روحِ عالم ہیں سکونِ قلب کا مصدر مرے حضور آئے انھی کے نور سے روشن جبینِ شمس و قمر جہانِ دہر کے خاور مرے حضور آئے وہ […]

لب پہ نعت شہِ ابرار ہے پیاری پیاری

دھڑکنوں میں بھی یہی ورد ہے جاری جاری لے کے جاتی تھی حلیمہ جو مرے آقا کو کہتی جاتی تھی میں قربان میں واری واری ڈال دیتے ہیں لعاب اپنا جب اس میں آقا پھر نہیں رہتا کنواں کوئی بھی کھاری کھاری دونوں عالم کو محیط آپ کی رحمت شاہا نوری نوری بھی کرم یافتہ […]