رُخِ مصطفیٰ سے ہے روشنی

رُخِ مصطفیٰ سے ہے زندگی قمر فلک میں بھی بالیقیں رُخ مصطفیٰ سے ہے چاندنی گل و عندلیب چمن میں بھی رُخِ مصطفیٰ سے ہے تازگی یہی ’’قَدْ نَرٰی‘‘سے عیاں ہوا رُخِ مصطفیٰ سے ہے بندگی یہ جہان خاک مہک رہا رُخِ مصطفیٰ سے ہے ہر گھڑی شب تیرہ میں بھی تو دیکھیے رُخِ مصطفیٰ […]

نعتِ احمد ہوئی ہم دم مری تنہائی کی

پردۂ غیب سے یوں شہ نے مسیحائی کی خاکِ راہ شہِ والا پہ فدا ہو جاؤ بات بتلائی ہے کیا عشق نے دانائی کی شہرِ طیبہ کے مسافر کو یہ اعزاز ملا خود درِ شاہ کی خوشبو نے پذیرائی کی حُسن دینے لگا اُٹھ اُٹھ کے صدائے تحسین جب چِھڑی بات رُخ یار کی رعنائی […]

ہیں ذو الکرم سارے نبی لیکن تو چیزے دیگری

توقیر ہے سب کی بڑی لیکن تو چیزے دیگری روح الامیں گویا ہوئے اے سرورِ لالہ رُخاں میں نے جہاں دیکھے سبھی لیکن تو چیزے دیگری پہلے نبی اللہ کے آدم صفی اللہ ہوئے عظمت اُنھیں حق نے یہ دی لیکن تو چیزے دیگری حضرت خلیل اللہ کا اک نام جدّ الانبیاء نعمت عجب اُن […]

جس وقت مجھ پہ رحمت رب العلیٰ ہوئی

تفویض مجھ کو مدحتِ خیر الوریٰ ہوئی اشکوں میں جب ڈھلی مجھے معلوم ہو گیا مقبول بارگاہ میں میری ثنا ہوئی سجدہ سمجھ لیا مرا قدموں کو چومنا لوگوں کو حق سمجھنے میں اکثر خطا ہوئی جو ہے رسولِ پاک کے جلوؤں سے مستنیر جی جاں سے اُس پہ خلق خدا ہے فدا ہوئی چومے […]

گناہوں نے ہمیں اتنا ہے مارا یارسول اللہ

نہیں جز آپ کے کوئی سہارا یارسول اللہ کٹھن حالات ہیں آتا نہیں ہے پوچھنے کوئی رہائی ہو غموں سے اب خدارا یارسول اللہ بھنور کا سامنا ہے ڈگمگانے والی کشتی کو یہ ناؤ ڈھونڈتی ہے اب کنارا یارسول اللہ ہمارے چار جانب ہے اندھیری رات کا منظر نہیں آتا نظر کوئی سہارا یارسول اللہ […]

دل بے تاب گر سجدے میں گرتا ہے تو گرنے دو

مگر لازم ہے سجدے کے لیے سر کو یہاں روکو خدا معطی ہے اور سرکار ہیں قاسم خزانوں کے غریبو! بے نواؤ! ان کے در پر ہاتھ پھیلاؤ ضرورت پیش آ جائے تو ’’اُنظرنا‘‘ کہو لیکن مسلمانو! نبی کے سامنے مت’’راعنا‘‘ بولو اکارت ہی نہ جائیں مومنو اعمالِ صالح سب درِ سرور پہ آہستہ بہت […]

نورِ وحدت کے امیں تجھ پہ درود اور سلام

سبز گنبد کے مکیں تجھ پہ درود اور سلام شان بخشی تجھے اللہ نے سب سے بالا مثل تیری نہ کہیں تجھ پہ درود اور سلام اور کوئی ہو نہ سکا اتنا قریں خالق کے جس قدر تو ہے قریں تجھ پہ درود اور سلام بوریا اور چٹائی ترا بستر تھا شہا تھی غذا نان […]

ہے با وصف اور باکمال اُن کی محفل

ہے خود آپ اپنی مثال ان کی محفل ملک‘ حور و غلماں سے جنّت سجا کر سجاتا ہے خود ذوالجلال اُن کی محفل نہیں آڑے آتی پریشانی اُن کے جو کرتے رہیں سارا سال اُن کی محفل میرا انگ انگ عاشقِ مصطفیٰ ہے ہے کرتا مِرا بال بال اُن کی محفل چراغاں ہُوا اس لیے […]

جلا کے رکھے ہیں توصیفِ مصطفیٰ کے چراغ

ہوائے تیز دکھائے ذرا بُجھا کے چراغ وہی ہے عشقِ پیمبر کے کارواں کا امیر وہ جس کے قلب میں جلتے رہیں وفا کے چراغ جو فتح چاہو تو رکھو جلا کے ساتھ اپنے حدیثِ شہ کے ‘فرامینِ ذوالعلیٰ کے چراغ یہ آج دین کا چہرہ چمک رہا ہے تو کیوں ؟ کیے ہوئے اِسے […]

وجودِ عالَمِ امکاں کا ہیں وہی مصدر

نگاہِ حق کا فقط ذاتِ مصطفیٰ محور ہے ان کے حُسن کے صدقے سے ضو فشاں خاور اُنھی سے پاتے ہیں خیرات نجم و شمس و قمر اَنہیں روا نہیں اُمت پہ آپڑے کوئی غم فقط اِسی لیے سجدے میں سر رکھا شب بھر وہ جانتے نہیں دشمن کو بھی دغا دینا دیا گیا تھا […]