ذرّے بھی چمک اٹھتے ہیں طیبہ کی زمیں پر

بٹتے ہیں گُہر سیّدِ والا کی زمیں پر یہ سوچ کے طیبہ کی زمیں پر نہیں چلتا شاید کہ میں ہوں عرشِ معلی کی زمیں پر شاہیں مِری پرواز کی رفعت پہ ہے نازاں مانند کبوتر ہوں میں بطحا کی زمیں پر بڑھنے لگے سرکار ’’اَوْ اَدْنٰی‘‘ کی فضا میں جبریلؑ رہے دیکھتے سدرہ کی […]

ابد تلک کا جو بادشہ جس کا دائرہ ہے ‘ وہ آرہا ہے

جو ہر زمانے کا پیشوا ہے ‘ وہ آرہا ہے ‘ وہ آرہا ہے جو انبیا کا بھی مقتدا ہے ‘ وہ آرہا ہے ‘ وہ آرہا ہے جو مجتبیٰ ہے جو مصطفیٰ ہے ‘وہ آرہا ہے ‘ وہ آرہا ہے جو خاتم الانبیاء والمرسلین ٹھہرا ‘امین ٹھہرا جو سیّد و شاہِ انبیا ہے‘ وہ […]

ہر زمانے پر مَسلّم ہے مرے آقا کا راج

اُن کے سر ختمِ نبوت کا سجایا حق نے تاج روزِ محشر وہ تأسف کے سوا کیا پائے گا مانتا دل سے نہیں جو اُن کی عزّو شان آج ایک بار اتنا کہا تھا آپ کا ہوں میں حضور رکھ رہے ہیں آپ میرے ان کہے لفظوں کی لاج وحشتوں کی تیرگی میں خانۂ انساں […]

جس دم بھی اُن کا نام میرے لب پہ آگیا

جس دم بھی اُن کا نام میرے لب پہ آ گیا مجھ کو ہر ایک غم سے بری کر دیا گیا ہر نارسائی دور مرے بخت سے ہوئی جب مصطفیٰ کا اسمِ گرامی لِیا گیا جب سے ہوئی ہے مغفرِ صلِ علیٰ نصیب ہر ایک وار میرے عدو کا خطا گیا دس رحمتیں نصیب ہوئیں […]

وہ شہکارِ ربُ العلیٰ خوب صورت

محمد نبی مصطفیٰ خوب صورت درودوں کے گجرے سلاموں کے تحفے دعا خوب صورت ثنا خوب صورت ہے ذکر اُن کا آیات قرآں میں شامل پیمبر کی ہر ہر ادا خوب صورت ہوں صدیق ‘ فاروق ‘عثماں کہ حیدر ہیں چاروں بفضلِ خدا خوب صورت رہے کرتے خود انبیا جس کی خواہش وہ سلطاں ‘ […]

جب سے اپنا سر درِ خیر الوریٰ پر رکھ دیا

بخت میرا ربِّ کعبہ نے بدل کر رکھ دیا یوں ہوا فیضانِ الطافِ شہِ کون و مکاں وسعتِ دامانِ سائل سے فزوں تر رکھ دیا اصل میں اُن کے پسینے کی مہک کا فیض ہے نام جس کا ہم نے عُود و مُشک و عنبر رکھ دیا واصفِ سلطان بحر و بر کا رتبہ دیکھیے […]

اے نبی کے جانثارو! ’’لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا‘‘

عرض کرنا ان کو ہو تو! ’’لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا‘‘ گر ضرورت پیش آ جائے تو ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہو حکمِ خالق ہے یہ سن لو! ’’لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا‘‘ داستانِ رنج و غم اپنی سنانے کے لیے جب حضورِ شاہ بیٹھو! ’’لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا‘‘ نقص کا پہلو نہ جن سے کچھ نکالا جا سکے ایسے اچھے لفظ بولو! […]

ہم نے فرقت میں کبھی خود کو نہ تنہا پایا

مدحتِ سرورِ کونین میں ڈوبا پایا چشم نم ‘ جانِ حزیں ‘ دل ہے شکستہ پایا ہجرِ دربارِ رسالت میں نہ کیا کیا پایا گنبدِ سبز کو جب ایک نظر دیکھ لیا میرے خوابوں نے بھی سرکار کا روضہ پایا فتنۂ برزخ و محشر کے مقابل خود کو ان کی یادوں کے تصدق نہ اکیلا […]

ارض و سما کی دھوم ہے خیرالوریٰ کی دھوم

ہر سُو جہان میں ہے شہِ دوسریٰ کی دھوم از فرش تا بہ عرش ہے دستِ سخا کی دھوم چرچا ترے کرم کا ہے، تیری عطا کی دھوم اک سیلِ روشنی تھا وہ معراج کا سفر شمس و مہ و نجوم میں ہے نقشِ پا کی دھوم شامل ہو جس میں اشکِ ندامت کا برشگال […]

ہجر کے روح فرسا یہ لمحات ہیں، جاں پریشاں ہے، اشکوں کی برسات ہے

باریابی کی مجھ کو اجازت ملے دل میں کب سے اُمیدِ ملاقات ہے تشنگی تشنگی، تیرگی تیرگی، العطش العطش، روشنی روشنی اپنے بندے پہ چشمِ کرم سیدّی، سر پہ ظلماتِ غم کی سیہ رات ہے کون ہے جو یتیموں کا ہے آسرا، کون ہے جو ہے مفلس کا حاجت روا کون ہے جس پر اِتراتے […]