اپنوں پہ وہ رحیم ہے باطل پہ ضربِ شد

بعثت ہے جس کی باعثِ تفریقِ نیک و بد ظالم پہ اس کا غیظ ہے ، مظلوم کی مدد کھینچا ہے جس کے نور نے ظلمت پہ خطِ رد بدر و اُحد کے نیزے گواہی اسی کی دیں طائف کے سنگریزے گواہی اسی کی دیں

نازل ہوئی ہے جس کے لئے آیۂ لَقَدْ

وہ اپنی نوعیت کا زمانے میں ہے اَحَدْ خالق نے ایسے فن سے تراشے ہیں خال و خَدْ تصویر کی ہے حَد نہ مصوِّر کی کوئی حَدْ رو پوش کائنات کے چاند اُس کے سامنے یوسف کا مہرِ حُسن ہے ماند اُس کے سامنے

چاروں طرف محیط فضائیں اُسی سے ہیں

رنگین مُشک بار ہوائیں اُسی سے ہیں برکھا رُتوں کی کالی گھٹائیں اُسی سے ہیں شاخوں پہ طائروں کی صدائیں اُسی سے ہیں شبنم کے آئینوں میں بصارت اُسی سے ہے خورشیدِ ضوفشاں میں حرارت اُسی سے ہے

ذوالاحتشام، صاحبِ لولاک اس کا نام

ذوالاحتشام ، صاحبِ لولاک اس کا نام توسیعِ فکر ، رونقِ ادراک اس کا نام توقیرِ ارض ، زنیتِ افلاک اس کا نام بعد از خدا جہان میں ہے پاک اس کا نام ہر حرف اس کے نام کا عزّت مآب ہے اس ذاتِ محترم کا وجود الکتاب ہے