اِس چشمِ التفات میں ممتا ہے ماؤں کی
اِس کے شفیق ہاتھ میں خنکی ہے چھاؤں کی وہ درگۂ قبولیت ہے التجاؤں کی ہے اُس کی گفتگو میں دوا ابتلاؤں کی توبہ کا دَر کُھلا شۂ والا صفات سے رحمت کا لفظ معتبر ہے اُسکی ذات سے
معلیٰ
اِس کے شفیق ہاتھ میں خنکی ہے چھاؤں کی وہ درگۂ قبولیت ہے التجاؤں کی ہے اُس کی گفتگو میں دوا ابتلاؤں کی توبہ کا دَر کُھلا شۂ والا صفات سے رحمت کا لفظ معتبر ہے اُسکی ذات سے
بعثت ہے جس کی باعثِ تفریقِ نیک و بد ظالم پہ اس کا غیظ ہے ، مظلوم کی مدد کھینچا ہے جس کے نور نے ظلمت پہ خطِ رد بدر و اُحد کے نیزے گواہی اسی کی دیں طائف کے سنگریزے گواہی اسی کی دیں
وہ خوب شکل ، خوب سلیقہ وہ خو بُرو وہ خیر خواہ ، خیر سَراپا وہ خیر جُو وہ خوش بیاں زبان ، وہ خوش فکر گفتگو سارے جہاں کے حُسن بہم اس کی ذات میں جُود و عطا و عفو و کرم اس کی ذات میں
وہ اپنی نوعیت کا زمانے میں ہے اَحَدْ خالق نے ایسے فن سے تراشے ہیں خال و خَدْ تصویر کی ہے حَد نہ مصوِّر کی کوئی حَدْ رو پوش کائنات کے چاند اُس کے سامنے یوسف کا مہرِ حُسن ہے ماند اُس کے سامنے
ہستی ہے اک کتاب تو عنوان اس کی ذات انسانیت پہ رب کا ہے احسان اس کی ذات رُوئے زمیں پہ مستقل فیضان اس کی ذات سوزو سُرور عالم امکاں اسی سے ہے انساں اسی سے، عزّتِ انساں اسی سے ہے
رنگین مُشک بار ہوائیں اُسی سے ہیں برکھا رُتوں کی کالی گھٹائیں اُسی سے ہیں شاخوں پہ طائروں کی صدائیں اُسی سے ہیں شبنم کے آئینوں میں بصارت اُسی سے ہے خورشیدِ ضوفشاں میں حرارت اُسی سے ہے
وہ با وقار نام ہے عنوانِ زندگی وہ رونقِ بہارِ گلُستانِ زندگی آرائشِ جمالِ شبستانِ زندگی پانی کی لہر ، موجِ ہَوا اُس کے دم سے ہے تابندگیٔ ارض و سما اُس کے دم سے ہے
رشکِ جمالِ یوسفِ یکتا کہیں اُسے جس میں ازل ابد ہوں وہ لمحہ کہیں اُسے کیسے نہ دو جہاں کا خلاصہ کہیں اُسے جنبش میں ہے جہان کی نبضِ حیات میں وہ مرتعش ہے خونِ رگِ کائنات میں
ساری سیاستوں کی کلیدیں اُسی کے پاس سارے علوم ہیں اُسی اُمیّ سے اقتباس ساری شعاعیں ہیں اُسی سورج کا انعکاس تزئینِ رنگِ عالمِ ایجاد ہے وہی تہذیب کے ستون کی بنیاد ہے وہی
ذوالاحتشام ، صاحبِ لولاک اس کا نام توسیعِ فکر ، رونقِ ادراک اس کا نام توقیرِ ارض ، زنیتِ افلاک اس کا نام بعد از خدا جہان میں ہے پاک اس کا نام ہر حرف اس کے نام کا عزّت مآب ہے اس ذاتِ محترم کا وجود الکتاب ہے