صحرا نہ کوئی دشت نہ روہی نہ کوئی تھل

لمحہ نہ کوئی وقت نہ ساعت نہ کوئی پَل فرہاد کوئی قیس نہ وامق نہ کوئی نَل باہر حدوں سے اسکی نہ میداں نہ کوئی جَل قائم جہاں جہاں مرے رب کی خدائی ہے سردارِ انبیا کی وہاں مصطفائی ہے

حیرت بجاں کُرے میں ابھی تک زمین کے

اِک پَل میں اُس نے طے کئے رستے سنین کے جلنے لگے تھے پَر جہاں روح الامین کے ہیں اُس کے آگے سلسلے عینُ الیقین کے ثابت ہے سیرِ گنبدِ چرخِ کُبود سے وہ ماوریٰ ہے فکر و خرد کی حدود سے

پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پرتوِ خیال

پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پر توِ خیال حیراں ہے جس کے سامنے آئینۂ مثال جس اسمِ دل پذیر میں ہے حا و میم و دال تعریف جس کی کرتا ہے خود ربِّ ذوالجلال دنیائے شش جہت کے وجود و ظہور کا ممدوح انس و جنّ و مَلک کا طیور