صحرا نہ کوئی دشت نہ روہی نہ کوئی تھل
لمحہ نہ کوئی وقت نہ ساعت نہ کوئی پَل فرہاد کوئی قیس نہ وامق نہ کوئی نَل باہر حدوں سے اسکی نہ میداں نہ کوئی جَل قائم جہاں جہاں مرے رب کی خدائی ہے سردارِ انبیا کی وہاں مصطفائی ہے
معلیٰ
لمحہ نہ کوئی وقت نہ ساعت نہ کوئی پَل فرہاد کوئی قیس نہ وامق نہ کوئی نَل باہر حدوں سے اسکی نہ میداں نہ کوئی جَل قائم جہاں جہاں مرے رب کی خدائی ہے سردارِ انبیا کی وہاں مصطفائی ہے
وہ رمزداں ہے کُن کی نوا ہائے ساز کا محرم ہے وہ مظاہرِ فطرت کے راز کا اُنگلی سے موڑ لائے وہ لمحہ نماز کا جس وقت چاہے کھینچ لے باگیں سحاب کی اُس کی گرفت میں ہیں رگیں آفتاب کی
اِک پَل میں اُس نے طے کئے رستے سنین کے جلنے لگے تھے پَر جہاں روح الامین کے ہیں اُس کے آگے سلسلے عینُ الیقین کے ثابت ہے سیرِ گنبدِ چرخِ کُبود سے وہ ماوریٰ ہے فکر و خرد کی حدود سے
اِس کی نظر کے آگے ہویدا ازل اَبد قطرہ ہے اُس کے سامنے ہر قلزمِ خرد جانے ہے وہ بحیرۂ دانش کے جزر و مَد بالا مقام اُس کی نگاہوں میں پَست ہے ارض و سَما کا فاصلہ لمحے کی جَست ہے
پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پر توِ خیال حیراں ہے جس کے سامنے آئینۂ مثال جس اسمِ دل پذیر میں ہے حا و میم و دال تعریف جس کی کرتا ہے خود ربِّ ذوالجلال دنیائے شش جہت کے وجود و ظہور کا ممدوح انس و جنّ و مَلک کا طیور
وہ حاصلِ کتاب ہے اِس پر کتاب ختم سارے صحیفے ، سارے سماوی نصاب ختم اس پر ہوئے تمام نبوّت کے باب ختم صبحِ ازل سے اِس کی جلالَت ابد تلک قائم ہے اِس کا عہدِ رسالت ابد تلک
وہ جدِّ نامدار حسنؑ کا حسینؑ کا غازی ہے وہ اُحد کا تبوک و حنین کا ٹھنڈک جگر کی ، دِل کا سکوں ، نور عین کا تنہا کھڑا ہے فوج سے پنجہ نبرد ہے بے باک ہے ، جری ہے، بہادر ہے مَرد ہے
وہ دل پسند گیت سَحر دم طیور کا وہ مرکزی خیال کتابِ زبور کا وہ نغمۂ نجات ہے یوم نشور کا دھڑکن نہیں یہ سینے میں انساں کی بھول ہے یہ معبدِ وجود میں ذکرِ رسول ہے
وجدان و فکر و ذہن کی بس عید ہے وہی ہے لائقِ شنید وہی دید ہے وہی عالم میں صرف قابلِ تقلید ہے وہی دنیائے شش جہت میں نوائے سروش ہے وہ جنّتِ نگاہ ، وہ فردوسِ گوش ہے
جس کا خیال عین سعادت ہے وہ رسول بس دیکھ لینا جس کو تلاوت ہے وہ رسول جس کا بیاں لبوں کی عبادت ہے وہ رسول جس کا ہر ایک سانس ہے دم جبرائیل کا جس کا کہا ، کہا ہے خدائے جمیل کا