بے جان پتھّروں کو تَکلُّم عطا ہوا
شاخوں کے ننگے جسم کو قاقُم عطا ہوا کلیوں کو، کونپلوں کو، تبُّسم عطا ہوا سرما کی چاندنی کو ترنُّم عطا ہوا بے چین روحِ عَصر کو تسکین مل گئی کون و مکاں کو سورۂ وَالتّین مل گئی
معلیٰ
شاخوں کے ننگے جسم کو قاقُم عطا ہوا کلیوں کو، کونپلوں کو، تبُّسم عطا ہوا سرما کی چاندنی کو ترنُّم عطا ہوا بے چین روحِ عَصر کو تسکین مل گئی کون و مکاں کو سورۂ وَالتّین مل گئی
جس ذرّے کو چُھوا مۂ انوار بن گیا ثابت کو مَس کیا تو وہ سیّار بن گیا جو بھی قدم اٹھا یا وہ معیار بن گیا تاثیر اُس کی سانس میں ہے کیمیائی کی اُس پر نظر لگی ہوئی ساری خدائی کی
باطل پہ برقِ قہر تھے ، اپنوں پہ مہربان وہ خوف ، وہ جلال ، وہ ہیبت کہ الامان لرزاں تھی جن سے قیصر و کسریٰ کی آن بان بازو تو اِک طرف یہ اثر تھا نگاہ کا دیکھا ذرا تو شق تھا کلیجہ سپاہ کا
اوہام کے ڈسے ہوئے وہ بے یقین لوگ وہ کج خیال لوگ ، وہ بارِ زمین لوگ فیضِ نبی سے ہو گئے وہ بہترین لوگ ہر شاخِ خشک ، شاخِ ثمردار ہو گئی گمراہ قوم ، قافلہ سالار ہو گئی
قرآں ہے نعت خواں اُسی خلقِ لطیف کا ہمدرد وہ کہ بوجھ اُٹھائے ضعیف کا خود اپنے ہاتھ سے کرے بستر حریف کا مولائے کُل ، انیسِ تیامیٰ کہیں جسے بیواؤں کے دُکھوں کا مداوا کہیں جسے
ڈھارس بندھائی چشمِ عنایت کی آپ نے پانی پلایا پیار سے شفقت کی آپ نے دیں میٹھی میٹھی گولیاں راحت کی آپ نے جو تھی لہو کی پیاسی اُسے آسرا دیا پتّھر سے سخت دِل کو بھی پانی بنا دیا
خود اُس کے گھر میں پہنچے عیادت کو آنحضور تھا جسم جس کا زخمِ علالت سے چُور چُور دیکھا جو اُس نے سامنے ربِّ عُلیٰ کا نور بجلی رگوں میں دوڑ گئی انبساط سے بستر پہ اُٹھ کے بیٹھ گئی وہ نشاط سے
اُس دن گری نہ مٹّی نہ کوڑے کی کوئی صف حیراں ہوئے حضور کہ جس کا تھا میں ہدف وہ پیر زن کہاں ہے جو تھی گندگی بکف معلوم جب ہوا کہ وہ بیمار ہو گئی اُٹھنے سے چلنے پھرنے سے لاچار ہو گئی
وہ جس سے سالکوں کو ملیِ منزلِ اصول گردوں ہے جسکے پائے مبارک کے نیچے پھول وہ جس کے راستے کی مہ و کہکشاں ہیں دُھول پیغامِ حق کو لے کے وہ خیر البشر چلے طائف کی وادیوں کے مقدّر سنور چلے
ماحول سنگ سنگ تھا، موسم تھا گرد گرد پُر خوف راستوں میں رواں وہ عظیم فَرد چہرے تمام اجنبی ، لہجے تمام سَرد طائف کے کافروں میں پہنچ کر بنامِ رب سردارِ انبیاء نے سنایا پیامِ رب