سُن کر پیامِ ربّ دو عالم حضور سے
دل کافروں کے بھر گئے بادِ غرور سے جو ذہن تھے اَٹے ہوئے گردِ فتور سے وہ مُستنیر ہو نہ سکے رب کے نور سے یہ مرحلے تھے جادۂ اسلام میں کڑے تبلیغ کے جواب میں پتّھر برس پڑے
معلیٰ
دل کافروں کے بھر گئے بادِ غرور سے جو ذہن تھے اَٹے ہوئے گردِ فتور سے وہ مُستنیر ہو نہ سکے رب کے نور سے یہ مرحلے تھے جادۂ اسلام میں کڑے تبلیغ کے جواب میں پتّھر برس پڑے
مجنوں بتاتی تھی، کبھی شاعر بتاتی تھی اِک بڑھیا روز آپ پہ کوڑا گراتی تھی کوڑا گرا کے دیکھتی تھی ، مُسکراتی تھی اِک روز یوں ہوا کہ وہ بیمار ہو گئی گھر تک میں چلنے پھرنے سے لاچار ہو گئی
یہ سجدہ ریزی پیشِ دَد و دام چھوڑ دو غیر از خدائے پاک سبھی نام چھوڑ دو رب کے لئے پرستشِ اصنام چھوڑ دو ورنہ خدا کا قہر کچھ اتنا شدید ہے دوزخ کے لب پہ نعرۂ ’’ ہَل من مزید ‘‘ ہے
اِس ساری کائنات کا حاجت روا ہے ایک معبود سب کا ایک ہے مشکل کشا ہے ایک مولائے آب و آتش و خاک و ہوا ہے ایک مشہود وہ ہے اور میں اس کا شہید ہوں میں مصطفی رسولِ خدائے وحید ہوں ‘‘
چیخا پہاڑ ، دشت پکارا ” نہیں نہیں ” بولا حدِ زمیں کا کنارا ” نہیں نہیں ” رب نے کسی کو کہہ کے اُتارا ” نہیں نہیں ” قومِ حجاز بولی دوبارہ ” نہیں نہیں ” کہنے لگے وہ دِل کی گرہ کھولتے ہوئے دیکھا ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہوئے
دامن میں کر کے جمع عرب کے عوام کو فرمایا نورِ صبح نے ظلماتِ شام کو دیکھو تو جھانک کر مِرے ماضی تمام کو بچپن سے جانتے ہیں قبیلے سبھی مجھے دیکھا ہے جھوٹ بولتے تم نے کبھی مجھے ؟
ہر عہد، ہر مقام کا، آنات کا نبی شمس و مہ و نجوم کا، ذرّات کا نبی وہ شرق و غرب و ارض و سماوات کا نبی فن کار، فن، شعور، ہُنر اس کے اُمّتی جذبات، اشک، قلب، نظر اس کے اُمّتی
رنگوں کا، خوشبوؤں کا، خیالات کا نبی موسم کا، روشنی کا، نباتات کا نبی شیشوں کا، پتھروں کا، جمادات کا نبی رہرو، شدید دھوپ، سفر، اس کے اُمّتی سایہ، قیام، کُنجِ شجر اس کے اُمّتی
بھیگی سُلگتی شب میں فسردہ دلوں کی ہُوک پت جھڑ کی زد میں آئی ہوئیں کونپلیں مُلوک صیّاد دیدہ صید میں وہ شانتی کی بھُوک ایمن کا ہو کلیم کہ یوسف ہو چاہ کا ہر جذبہ مدح خواں ہے رسالت پناہ کا
وہ دورِ کذب و تیرگی میں صادق و امین وہ نازِ محفلِ فلک، وہ زینتِ زمین وہ خاتمِ پیمبراں، وہ نورِ اوّلین صدیقِ ذاتِ باری و فاروقِ خیر و شر دنیا کے اغنیاء کا غنی، مرتضیٰ نظر