خلقت خدا کی آپ کو کیا کیا ستاتی تھی

مجنوں بتاتی تھی، کبھی شاعر بتاتی تھی اِک بڑھیا روز آپ پہ کوڑا گراتی تھی کوڑا گرا کے دیکھتی تھی ، مُسکراتی تھی اِک روز یوں ہوا کہ وہ بیمار ہو گئی گھر تک میں چلنے پھرنے سے لاچار ہو گئی

تم پہلی اُمّتوں کے برُے کام چھوڑ دو

یہ سجدہ ریزی پیشِ دَد و دام چھوڑ دو غیر از خدائے پاک سبھی نام چھوڑ دو رب کے لئے پرستشِ اصنام چھوڑ دو ورنہ خدا کا قہر کچھ اتنا شدید ہے دوزخ کے لب پہ نعرۂ ’’ ہَل من مزید ‘‘ ہے

پھر آپ نے کہا کہ ’’ یہ مانو خدا ہے ایک

اِس ساری کائنات کا حاجت روا ہے ایک معبود سب کا ایک ہے مشکل کشا ہے ایک مولائے آب و آتش و خاک و ہوا ہے ایک مشہود وہ ہے اور میں اس کا شہید ہوں میں مصطفی رسولِ خدائے وحید ہوں ‘‘

چیخا پہاڑ ، دشت پکارا ” نہیں نہیں "

چیخا پہاڑ ، دشت پکارا ” نہیں نہیں ” بولا حدِ زمیں کا کنارا ” نہیں نہیں ” رب نے کسی کو کہہ کے اُتارا ” نہیں نہیں ” قومِ حجاز بولی دوبارہ ” نہیں نہیں ” کہنے لگے وہ دِل کی گرہ کھولتے ہوئے دیکھا ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہوئے

سوچوں کا، آرزوؤں کا، عادات کا نبی

رنگوں کا، خوشبوؤں کا، خیالات کا نبی موسم کا، روشنی کا، نباتات کا نبی شیشوں کا، پتھروں کا، جمادات کا نبی رہرو، شدید دھوپ، سفر، اس کے اُمّتی سایہ، قیام، کُنجِ شجر اس کے اُمّتی

ساون سجیلے موسموں میں کوئلوں کی کُوک

بھیگی سُلگتی شب میں فسردہ دلوں کی ہُوک پت جھڑ کی زد میں آئی ہوئیں کونپلیں مُلوک صیّاد دیدہ صید میں وہ شانتی کی بھُوک ایمن کا ہو کلیم کہ یوسف ہو چاہ کا ہر جذبہ مدح خواں ہے رسالت پناہ کا