میں پیاس کا صحرا ہوں، تُو دریا کا خزینہ
تُو قاسمِ تسنیم ہے، حاجت مری پینا تُو وہ ہے کہ ہر حُسن تری ذات سے مُشتَق میں وہ ہوں، کہ مجھ میں نہ سلیقہ نہ قرینہ تُو قلزمِ آفاق کا ہے ساحلِ مقصود میں بحرِ پُر آشوب میں کاغذ کا سفینہ میں سنگ کا ریزہ ہوں نہ وُقعت نہ حقیقت تُو فرقِ فلک کیلئے […]