حضور چشمِ کرم ہو زوال برسا ہے

چہار سمت سے رنج و ملال برسا ہے زمینِ شعر پہ جب بھی خیال برسا ہے برائے نعت یہ کتنا کمال برسا ہے جہانِ تار کو پل بھر میں کر دیا روشن ’’اِس اہتمام سے ان کا جمال برسا ہے ‘‘ کیا ہے ذکرِ مبارک سے قلب کو روشن جبینِ زیست پہ لطفِ خصال برسا […]

یہ جسم و جان نہیں ہیں یہاں وہاں کے لیے

حیات وقف ہوئی شاہ ِ دو جہاں کے لیے کروں نصیب پہ اپنے میں کیوں نہ ناز شہا سلیقہ آپ نے مجھ کو دیا بیاں کے لیے حضور آپ کی الفت شدید چاہتا ہوں بسر ہو عمر مری نعت کے جہاں کے لیے حضور آپ کی چشمِ کرم کے ہیں محتاج پلٹ کے آتے رہیں […]

کرم ہے یہ نکمے پر نبی کا

نہیں ہے زعم مجھ کو شاعری کا طلب سے بڑھ کے دیتے ہیں ہمیشہ کہ ہے احساس جو میری کمی کا مجھے جلدی سے لے جاؤ مدینے بھروسہ ہے کہاں کچھ زندگی کا نہیں ممکن کہ جائے در سے خالی بھلا چاہا انہوں نے ہر کسی کا نہیں جانا درِ مولا سے اٹھ کر ہے […]

بے سہاروں کے لیے وہ بن کے شفقت آگئے

بے سہاروں کے لیے وہ بن کے شفقت آ گئے سوختہ جانوں پہ وہ پر جُوش رحمت آ گئے حشر کے دن کا نہ رکھنا خوف اپنے قلب میں عرصۂ محشر میں وہ جانِ شفاعت آ گئے اس جہاں میں بے بسی پر رنج و غم بے سود ہے عالمیں کے واسطے وہ بن کے […]

نہیں عظیم کوئی در حضور کے در سے

ملی زمانے کو عزت درِ پیمبر سے زمانے بھر میں ہر اک سمت ہے پریشانی سکون پاتا ہے دل بس حضور کے در سے ملائکہ سے بشر تک یہ بات ہے مشہور ’’حیا کا آئینہ چمکا نبی کی دختر سے‘‘ نبی کی عظمتیں کچھ اور بھی ہوئیں واضح صدا جو مکے میں کلمے کی گونجی […]

ملے حضور کی الفت یہی دعا کرتے

نبی سے عشق کا اظہار برملا کرتے حضور آپ کی مدحت بڑی سعادت ہے کرم سے آپ کے اپنا فقط بھلا کرتے درونِ قلب سے ہر دم یہی صدا آئے حضور اپنی زیارت کبھی عطا کرتے تمام عمر اسی آرزو میں روئے ہم کہ زندگی میں کبھی طیبہ میں رہا کرتے ہوئی ہے جب سے، […]

خدا کا فضل ہے جو لب پہ جاری ان کی مدحت ہے

یہی بس اک وسیلہ ہے کہ ہر سو میری عزت ہے رقم جتنی بھی نعتیں میں نے کی ہیں آج تک اے دل ثنا گوئی کا صدقہ ہے یقینی قصرِ جنت ہے "مرے ’’لب پر ہر اک لمحہ فقط حرفِ صداقت ہے ‘‘ کرم اللہ کا ہے اور شہِ دیں کی عنایت ہے وہاں شاہ و […]

سرکارِ دو عالم سا دلاور نہ ملے گا

دنیا میں کوئی آپ کا ہمسر نہ ملے گا با چشمِ عقیدت کرو روضے کی زیارت اس جیسا کوئی آنکھ کو منظر نہ ملے گا بھیجے ہیں خدا نے تو سوا لاکھ پیمبر ان ساروں میں سرکار سا دلبر نہ ملے گا ایمان کی کشتی ہو تو پتوار محبّت ورنہ یہ شفاعت کا سمندر نہ […]

سرکارِ دو عالم ساکے بنا لے تو بھی

سلسلے ان سے محبت کے بنا لے تو بھی دل سے اوروں کے خیالات ہٹا لے تو بھی در پہ سرکار کے گر جانا مقدر میں نہیں چھپ کے تنہائی میں کچھ اشک بہا لے تو بھی گر تمنّا ہے تری آئیں وہ تیرے گھر بھی ان کے پھر نام کی اک بزم سجا لے […]

حضور آپ کی رحمت سے آگہی پھیلی

مٹی ہے تیرگی، عالم میں روشنی پھیلی مرے سخن کو نہ ملتا کمال دنیا میں نبی کی نعت سے لفظوں میں تازگی پھیلی جبینِ خاک پہ وحشت کے جب پڑے سائے وُجودِ نور سے ہر سمت دلکشی پھیلی حضور آپ کے نقشِ قدم کے صدقے میں یہ کائنات بنی اور زندگی پھیلی پلٹنا شمس کا […]