سخن کا، نطق و بیان کا مدعا ہوا ہے مقالِ طیبہ

ہر ایک عرضی کا اپنی محور کیا ہوا ہے وصالِ طیبہ کسی پرائے کو اپنے حالات کیوں بتاؤں گدا ہوں اُن کا کہ مجھ کو ہر بار اُن کے در سے عطا ہوا ہے نوالِ طیبہ فقیر کاسہ بہ کف ہے آقا صدا لگاتا ہے قریہ قریہ لبوں پہ اپنے مدام اُس نے رکھا ہوا […]

میم سے آتا ہے نامِ محبوبِ احد

میم درونِ اسمِ محمد اور احمد انگوٹھوں کو پہلے میم پہ چومتا ہوں جھومتا ہوں جب آتا ہے پھر میم پہ شد میم کی قسمت تو دیکھو کیا خوب ہوئی میم سے ان کا نام ہے جو ہیں نورِ احد سب حرفوں ،لفظوں کا مرکز میم ہے بس میم میں ہی پنہاں ہے کُل علم […]

ملتجی ہیں تیرے در کے ، سب فصیحانِ زمن

اے لبِ یوحٰی کے مالک اے شہِ نوری دہن آپ ہی کے واسطے حرف و بیانِ شوق ہے آپ ہی کے واسطے ہر نطق ہے شیریں سخن آپ ہی کی ذات کے صدقے ہیں سب کرّو بیاں آپ ہی کے نورِ کامل سے بنے کوہ و دمن جب سے لوٹا ہوں مدینے سے یہ لگتا […]

عقیدتوں کا ہماری محور حضور کا نقشِ پا ہوا ہے

تبھی تو عکسِ حسین اس کا ہمارے سر پر سجا ہوا ہے ہر اک نظر کو لبھا رہا ہے سبھی زمانے فدا ہیں اُس پر کچھ ایسی جدت سے اور ندرت سے سبز گنبد بنا ہوا ہے درود پڑھتا ہوں روز و شب میں سخن کو اِس سے رسد ہے جاری بس اِس وظیفے کی […]

نعت کے ذیل میں جب بھی نئے اشعار ہوئے

نور کی لَو سے سبھی لفظ گُہر بار ہوئے دم نکلنے کو ہے اِس تشنہ نگاہی کے سبب ایک مدت ہوئی دیدارِ رخِ یار ہوئے ان کو تملیک کیا ربِّ دو عالم نے سو وہ شاہِ کونین ہوئے مالک و مختار ہوئے ربِّ عالم نے دیا خُلقِ معظم اُن کو اور اِس طور سے وہ […]

اک الوہی کیف چھاتا ہے وہ گنبد دیکھ کر

ہر نظارہ جھلملاتا ہے وہ گنبد دیکھ کر کوئی جتنا بھی ہو آزردہ اُسے طیبہ دکھائیں قلبِ مضطر چین پاتا ہے وہ گنبد دیکھ کر مرجعِ ہر رنگ و نکہت کیا ہے اور وہ ہے کہاں دیکھنے والا بتاتا ہے وہ گنبد دیکھ کر روح رہ جاتی ہے زائر کی انھیں اطراف میں واپسی بس […]

وہ مالکِ ہر دو عالم ہیں، وہ جود و سخا کے ہیں پیکر

دیتے ہیں طلب سے بڑھ کر ہی، لوٹاتے نہیں وہ لا کہہ کر اوصاف حمیدہ کیا لکھوں پروازِ تخیل کم ہے بہت یوں نعت کی صورت بن جائے گر مل جائے جبریل کا پر مجھ عاصی اور بے مایہ کو بھی اذنِ حضوری بخشا ہے اس طرزِ عنایت پر آقا میں صحنِ حرم میں ہوں […]

جو مانگنا ہے مانگ لے ہر بار ملے گا

لا، کہتے نہیں مالک و مختار ملے گا گر اذنِ مدینہ کی ہے خواہش تو دعا کر سچی ہے طلب گر، تو مرے یار ملے گا ترسیدہ نگاہی مری کب دور کریں گے کب دیکھنے کو گنبد و مینار ملے گا؟ ہم ہجر کے ماروں کی ہے بس ایک نشانی دل دیدِ رخِ شہ کا […]

کافی ہیں خلاصی کو سرِ حشر یہ نعمات

لکھتا ہوں سرِ نامہ تری نعت تری بات ہر ایک زمانے میں رہا ذکرِ محمد ہر مطلعِ مصحف سے نمایاں ہے تری ذات ترتیل سے کھلتے رہے گلہاے عقیدت اک جذب میں جب بھی پڑھیں قرآن کی آیات مازاغ کے سرمے سے مزین ہیں وہ آنکھیں اور زلفِ منور سے چلی نور کی برسات خوش […]

اے مکینِ گنبدِ خضرٰی، نبیِ محترم

اے مکینِ گنبدِ خضرٰی ، نبیِ محترم استعارہ ہیں تمھارے نور کا ، لوح و قلم نعت کی صورت بنے ، اب بھیک دیں ادراک کی اے مسیحاے دلِ آزردگاں کر دیں کرم آیۂ فَلْیَفْرَحُوْا اور آیۂ ذِکرَک تلے جاری و ساری رہے گا ذکرِ سرور دم بہ دم خیر زا ہیں خیر خو ہیں […]