سخن کا، نطق و بیان کا مدعا ہوا ہے مقالِ طیبہ
ہر ایک عرضی کا اپنی محور کیا ہوا ہے وصالِ طیبہ کسی پرائے کو اپنے حالات کیوں بتاؤں گدا ہوں اُن کا کہ مجھ کو ہر بار اُن کے در سے عطا ہوا ہے نوالِ طیبہ فقیر کاسہ بہ کف ہے آقا صدا لگاتا ہے قریہ قریہ لبوں پہ اپنے مدام اُس نے رکھا ہوا […]