ہر اک ورق پر سجا سجا کر حضورِ اکرم کا نام لکھنا

کہ نعت گویانِ مصطفیٰ کا ہے کام نعتِ مدام لکھنا اگر جو ترتیب دینا چاہو مراتبِ خلقِ ربِّ عالم تو سب سے پہلے سبھی سے پہلے مقامِ خیر الانام لکھنا مدینہ ، طیبہ کے زائروں تم حرم کے صحنِ کرم میں جا کر نشانِ رحمت حسین گنبد پہ روز لاکھوں سلام لکھنا کوئی بھی اُسلوب […]

ہر رات ہے پُر نور ہر اک صبح سہانی

دیکھی ہے ترے شہر کی وہ نور فشانی کیوں اور کسی در پہ کروں اپنی جبیں خم جب آپ سے ملتا ہے مجھے دانہ و پانی ہے کتنا گراں مایہ زرِ خاکِ مدینہ اُس شہر کا ممکن ہی نہیں ہے کوئی ثانی پوچھیں گے نکیرین جو مَاکُنْتَ تَقُوْلُ ان کو بھی جواباً ہے تری نعت […]

لامکاں میں بھی قدم ہے سیدی سرکار کا

دیکھ کیا جاہ و حشم ہے مالک و مختار کا لکھ رہا ہوں نعتِ سلطان و شہِ کون و مکاں دم بہ دم مجھ پر کرم ہے یوں شہِ ابرار کا تشنگی کو دور کرنے کے لیے دیدار کی جام اِن آنکھوں کا نم ہے ان کے بادہ خوار کا تابِ مہرِ حشر میں بھی […]

جب مدینے میں کبھی اہلِ نظر جاتے ہیں

سرنگوں اور بہ صد دیدۂ تر جاتے ہیں کیا بتائیں جو گزرتی ہے سرِ قلبِ حزیں ہم مدینے سے پلٹتے ہوئے مر جاتے ہیں طائرِ سدرہ کے پر جلتے ہیں جس سے آگے اُس سے آگے وہ خدا جانے کدھر جاتے ہیں خوشبوؤں سے وہ گزر گاہ مہک اُٹھتی ہے آپ جس راہ سے اک […]

دیدۂ شوق ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے

یادِ طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے سبھی الفاظ ہوئے زینتِ قرطاسِ دعا جب سے مدحت میں تری وقف قلم رکھا […]

روئے حضرت سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا یوسفِ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار اے زلیخا مرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا خیر سے امت عاصی کی شفاعت کر لی ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا عرش پر خالقِ افلاک کے مہمان ہوئے کیوں نہ دنیا سے بلند آپ کا پایا ہوتا […]

تری کاریگری یارب ہر اک شے سے ہویدا ہے

تری قدرت کا نغمہ پردۂ ہستی سے پیدا ہے نہ گردوں پر ستارے ہیں ، نہ ذرے میں بیاباں ہیں یہ تیرے حسن کی نیرنگیاں ہیں بزمِ امکاں میں کئے سطحِ زمیں پر سینکڑوں دریا رواں تو نے بہا دیں اپنے لطفِ بیکراں کی ندیاں تو نے ہو کے زور سے جوشِ نمو بخشا زمینوں […]

شاہ مدینہ

شاہ مدینہ شاہ مدینہ یثرب کے والی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے آباد عالم تیرے کرم سے باقی ہر اک شہ نقش خیالی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ تیرے لئے ہی دنیا بنی ہے نیلے فلک کی چادر […]

پلتی ہے کب سے دِل میں مدِینے کی آرزُو

اور اُن کی چشمِ پاک سے پینے کی آرزُو آقائے دو جہاں سے عقِیدت نہ ہو تو، ہو مرنے کا حوصلہ نہ ہی جِینے کی آرزُو ایسا بھی ہو گا دن کہ مدینے کو جائیں گے حج کے ہجوم میں ہے پسینے کی آرزُو جِن کو حضور یاد کریں خوش نصیب ہیں اُن کا ہُنر […]

مُجھے نِسبت مُحمد مصطفی سے

بڑا تُحفہ مِلا فضلِ خُدا سے گلوں کے لب پہ ہے ذکرِ محمّد کہا کیا راز شبنم نے صبا سے تصوّر میں مدِینے کی گلی ہے میں گُم ہوں سوچ میں کُچھ اس ادا سے عطا ہو رُوئے انور کا نظارہ کہاں تک دل کو دُوں یُونہی دلاسے مدینے کی گلی کوچوں میں گھوموں جہاں […]