یا مرے مولا مجھے اپنے کرم کی بھیک دے

بھیک دے مجھ کو شہنشاہ اتم کی بھیک دے علم و فن میں برکتیں دے از طفیل پنجتن مالک لوح و قلم لوح و قلم کی بھیک دے رزق دے رزاق کر میری دعاے دل قبول ابن عبد اللہ کے جاہ و حشم کی بھیک دے سنگ اسود چومنے کی ہے مجھے خواہش بہت حج […]

حصارِ دہر ہے ذکر خدا سنبھالے ہوئے

کبھی سنبھلتا نہیں زلزلہ سنبھالے ہوئے کسی ستون پہ ٹھہراؤ آسماں کا نہیں مرے خدا کی ہے ابتک رضا سنبھالے ہوئے وہ لفظ کُن سے جو چاہے وہ خلق فرمائے رسول پاک ہیں اُس کی عطا سنبھالے ہوئے یہ چاند تارے نظام فلک زمین و زماں خدا کے بعد ہیں صل علیٰ سنبھالے ہوئے رسول […]

پیش ہوں گا جب قیامت میں خدا کے سامنے

رو پڑوں گا گِڑگِڑا کر مصطفی کے سامنے جب کبھی شہرِ مدینہ کی مجھے لگتی ہے پیاس آئینہ قسمت مری رکھتی ہے لا کے سامنے روزِ محشر جب گنہگاروں میں ہو گی کھبلی کالی کملی میں چھپا لیں گے وہ آ کے سامنے ہم کو دنیا کے کسی رُتبے کی کچھ پروا نہیں ” سروری […]

اے خُدا اب تو مِرا تُو ہی بھرم قائِم رکھ

میری آنکھوں کو نمی دی ہے تو نم قائِم رکھ سرخمِیدہ ہے تِرے سامنے اور یُوں ہی رہے عِجز بڑھتا ہی رہے، اِس میں یہ خم قائِم رکھ کیا کہُوں میرے گُناہوں کی نہِیں کوئی حدُود مُجھ خطا کار پہ تُو اپنا کرم قائِم رکھ یاد محبُوب کے کُوچے کی ستاتی ہے مُجھے جو مدِینے […]

سَیّد عارف معین بلے کاشعری اور تاریخی کارنامہ

سَیّدہ بخدیجۃ الکبری ٰ سلام اللہ علیھا پہ لکھی ہے کتاب سَیّد عارف معین بلے کا شعری اور تاریخی کارنامہ۔ —— عالم ِ اسلام کی خاتون ِ اول سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا کی منظوم سوانح ِ زندگی ۔یہ اپنی نوعیت کی ایک ایسی منفر د تخلیقی اور تحقیقی کتاب ہے،جس کاکوئی جواب نہیں […]

ثناۓ خواجہ مرے ذہن کوئی مضموں سوچ

جناب وادیٔ حیرت میں گم ہوں کیا سوچوں زبان مرحلۂ مدح پیش ہے کچھ بول مجال حرف زدن ہی نہیں ہے کیا بولوں قلم بیاض عقیدت میں کوئی مصرع لکھ بجا کہا سر تسلیم خم ہے کیا لکھوں شعور ان کے مقام پیمبری کو سمجھ میں قید حد میں ہوں وہ بے کراں میں کیا […]

راحتِ جاں کہاں سے ملتی ہے

اسی جانِ جہاں سے ملتی ہے جو بھی نعمت ہے دو جہانوں کی ایک ہی آستاں سے ملتی ہے وہ سبھی کے نبی ہیں اس کی سند ہر زمان و مکاں سے ملتی ہے سبز گنبد کی رفعتیں اللہ ایک حد لامکاں سے ملتی ہے اب ہمارے چمن میں ہے وہ بہار جس کی صورت […]

ٹھکانا ہر جگہ تیرا ہے منزل چار سُو تیری

تجھے میں نے وہیں پایا جہاں کی جستجو تیری جسے محبوب سمجھا شانِ لولاکی عطا کر دی جسے چاہا وہ ٹھہرا دو جہاں میں آرزو تیری کبھی ایمن کی وادی میں کبھی فاراں کی چوٹی پر ہوئی ہے جا بہ جا جلوہ گری اے شمع رُو تیری ترے بحرِ کریمی کا کرے گا کون اندازہ […]

لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں

جب بھی سرکار مرے دھیان میں آ جاتے ہیں ذکر ان کا ہو تو ہر سانس مہک جاتی ہے پھول احساس کے گلدان میں آ جاتے ہیں ہم تعارف کے بھی محتاج نہیں دنیا میں انکی نسبت ہی سے پہچان میں آ جاتے ہیں آنکھ جب چومتی ہے لفظ تو میرے آقا مسکراتے ہوئے قرآن […]