سخنوری نے مدینہ دکھا دیا مجھ کو
مری نجات کا زینہ دکھا دیا مجھ کو وہ جس کو دوش پہ طوفان لے کے چلتے ہیں وہ رحمتوں کا سفینہ دکھا دیا مجھ کو سر اپنا سبطِ محمد نے رکھ کے نیزے پر فرازِ دین کا زینہ دکھا دیا مجھ کو مرے حضور نے بن کر قرآن کی تفسیر عمل سے سارا قرینہ […]