اردوئے معلیٰ

Search
سیدۃ النسالعالمین دختر ِ محبوب ِ رب العالمین، جگر گوشہ ء رحمۃ للعالمین حضرت بی بی فاطمۃ الزھرا بتول سلام اللہ علیھا کی عظمت و فضیلت بیان کرنے کیلئے دفتر تو کیا کتابیں بھی لکھ دی جائیں تو ان کے فضائل ، شمائل اور خصال کونہیں سمیٹا جاسکتا۔قرآن و احادیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی ان کےاوصاف ِ حمیدہ اور محاسن ِ جمیلہ بیان کئے گئے ہیں ۔چودہ سو سال سے ان کی شان میں مناقب لکھنے کاسلسلہ جاری ہے۔عربی، انگریزی، ہندی ، فارسی، ترکی اور اردو زبان میں اتنا کچھ فاطمۃ الزھرسلام اللہ علیھا کی شان ِ اقدس میں لکھا گیا ہے کہ انہیں شمار تک نہیں کیا جاسکتا۔بیس ویں جمادی الثانی جمعۃ المبارک ان کے ظہور ِ پُرنورکادن ہے۔ بعثت ِ نبوت کے پانچویں سال آپ کا ظہور ِ پرنور ہوا۔ اور حسن ِ اتفاق دیکھئے کہ اس ہجری سال عالم اسلام نے ان کی ولادت باسعادت کادن جمعۃ المبارک ہی کو منایاہےاور ان کی یادمیں دیس دیس میں ایمان افروز محافل سجانے کاعمل جاری ہے۔ سوچا تو یہ تھا کہ اُم الحسنین کی عظیم المرتبت ہستی کی سیرت اور شخصیت پر کوئی مضمون لکھوں لیکن اسی دوران چند مناقب میری آنکھوں کے سامنے آگئیں ۔اردو اور فارسی کےعظیم المرتبت شاعر ِ مشرق ،علامہ محمد اقبال، معروف شاعر محسن نقوی اور سیدعارف معین بلے کی مناقب پڑھ کر میں انہی میں گم ہوکررہ گیا۔ابھی تک میں ان کے سحر سے باہرنہیں آسکا ہوں ۔اس لئے میں آپ کی نذر یہی شہ پارےکررہا ہوں ۔لگتا ہےکہ یہ مناقب آج کہی گئی ہیں ۔سب سے پہلے شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبال کی منقبت ملاحظہ فرمائیں ۔ایمان تازہ ہوجائےگا
——
منقبت : بحضور سیدۃ النسا العالمین بی بی فاطمتہ الزھرا
منقبت نگار : علامہ اقبال
——
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمة للعالمین
آن امام اولین و آخرین
بانوی آن تاجدار ’’ہل اتےٰ‘‘
مرتضیٰ مشکل کشا شیر خدا
مادر آن مرکز پرکار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوۂ کامل بتول
رشتۂ آئین حق زنجیر پاست
پاس فرمان جناب مصطفیٰ است
ورنہ گرد تربتش گردیدمی
سجدہ ہا بر خاک او پاشیدمی
——
یہ بھی پڑھیں : حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی منظوم سوانح حیات
——
اب معروف شاعر ِ اہل ِ بیت ِ اطہار ، عالمی شہرت یافتہ علمی اور ادبی شخصیت اور بہت سارے شعری مجموعوں کے خالق محسن نقوی کی منقبت پیش ِ خدمت ہے تاکہ قارئین ِ کرام کے ایمان کی تازگی اور روح کی آسودگی کاسامان بہم پہچایا جاسکے۔اس منقبت میں ان کی محبت اور عقیدت کے رنگ بھی ہیں اور سوچ کی غذا بھی ۔ ملاحظہ فرمائیے محسن نقوی کاکلام بلاغت نظام۔عنوان ہے ملکہء عصمت سلام اللہ علیھا۔
——
ملکۂ عصمت سلام اللہ علیہا
منقبت نگار : محسن نقوی
——
جہانِ انسانیّت میں توحید کا مقدس خیال زہرا
شرف میں وحدت ادا، امامت جبیں، نبوّت جمالِ زہرا
ہو جس پہ نازاں دلِ مصور، وہ نقشِ حُسنِ کمال زہرا
خدائے بےمثل کی خدائی میں تاابَد بے مثال زہرا
——
یہ شمعِ عرفانِ ایزدی ہے، یہ مرکزِ آلِ مصطفیٰ ہے
حسن سے مہدی تلک امامت کے سلسلے کی یہ ابتدا ہے
——
یہ "ف” سے فہمِ بشر کا حاصل، "الف ” سے الحمد کی کِرن ہے
یہ "ط” سے "طہٰ” کے گھر کی رونق، یہ "م” سے منزلِ محن ہے
یہ "ہ” سے ہردوسرا کے سلطاں کے دیں کی پُرنور انجمن ہے
یہ "ز” سے زینتِ زمیں کی ، "ہ” سے ہدایتوں کا ہرا چمن ہے
——
یہ "ر” سے رہبر رہِ وفا کی، "الف” سے اوّل نسب ہے اس کا
اسی لیئے نام فاطمہ ہے، جناب زہرا لقب ہے اس کا
——
یہ مُصحفِ آلِ مصطفیٰ میں مثالِ "یٰسین” محترم ہے
نہ پوچھ اس کی بلندیوں کو آسماں بھی تہہِ قدم ہے
اسی کے جلوؤں سے ہے یہ دنیا اسی کی غیبت رُخ عدم ہے
اسی کی چوکھٹ پہ سجدہ کرنے سے آسماں کی کمر میں خم ہے
——
کیا ہے دونوں جہاں میں حق نے کچھ اس طرح انتخاب اس کا
کہ مرتضیٰ کے سوا جہاں میں نہیں ہے کوئی جواب اس کا
——
اسی کے نقشِ قدم کی برکت نے ماہ و انجم کو نور بخشا
اسی کے دَر کے گداگروں نے ہی آدمی کو شعور بخشا!
اسی کی خاطرتو حق نے صحرا کو جلوہء کوہ ِ طور بخشا
جو اس کا غم لے کے مرگیا ہے، خدا نے اس کو ضرور بخشا
——
یہ روحِ عقل و شعور ہے، دلِ فروع و اُصول بھی ہے
زمیں پہ ہو تو علی کی زوجہ، فلک پہ ہو تو بتول بھی ہے
——
عجیب منظر ہے، صحنِ مسجد میں سب کو اُلجھن پڑی ہوئی ہے
یہ وہ گھڑی ہے کہ سانس حلقومِ زندگی میں اَڑی ہوئی ہے
تمام اصحاب دم بخود ہیں، نظر زمیں میں گڑی ہوئی ہے
ہوئی ہیں مسند نشین زہرا مگر نبوت کھڑی ہوئی ہے
——
عمل سے ثابت کیا پیمبر نے جو تھا پیغام کبریا کا
بشر تو کیا انبیاء پہ بھی احترام لازم ہے فاطمہ کا
——
یہ وہ کلی ہے کہ جس کی خوشبو کو سجدہ کرتی ہیں خود بہاریں
یہ وہ ستارہ ہے جس سے روشن ہیں آسمانوں کی رہگزاریں
یہ وہ سحر ہے کہ جس کی کرنیں بھی ہیں امامت کی آبشاریں
یہ وہ گُہر ہے کہ جس کا صدقہ فلک سے آکر مَلک اُتاریں
——
یہ بھی پڑھیں : تو قرار جان بتول ہے تری ذات جلوۂ حیدری
——
یہ وہ ندی ہے جو آدمیّت کی مملکت میں رواں ہوئی ہے
یہ وہ شجر ہے کہ جس کی چھاؤں میں خود شرافت جواں ہوئی ہے
——
حیا کی دیوی، وفا کی آیت، حجاب کی سلسبیل زہرا
کہیں ہے معصومیت کا ساحل، کہیں شرافت کی جھیل زہرا
جہانِ موجود میں بنی ہے، وجودِ حق کی دلیل زہرا
زمانے بھر کی عدالتوں میں نِساء کی پہلی وکیل زہرا
——
حضور ِ زہرا، بشر سے ہٹ کے پیمبروں کے سلام بھی ہیں
کہ اس کے سائے میں پلنے والے حسین جیسے امام بھی ہیں
——
"کِساء”میں آئی تو پنجتن کے شرف کی پہچان بن گئی ہے
"نساء”میں بیٹھی تو تربیت گاہ دین و ایمان بن گئی ہے
سمٹ کے دیکھا تو”ب”کے نقطے کی زیر کی شان بن گئی ہے
بِکھر کے سوچا تو فاطمہ خود تمام قرآن بن گئی ہے
——
جہاں میں رمزِ شعورِ وحدت کی عارفہ ہے، اَمیں ہے زہرا
"مباہلہ”کی صفوں میں دیکھو تو دیں کی فتحِ مبیں ہے زہرا
——
نبی کے دیں! تیری کشتِ ویراں پہ مثلِ ابرِ رواں ہے زہرا
علی کے گھر سے خدا کے گھر تک شعور کی کہکشاں ہے زہرا
——
اسی کے بچے ہنر سکھاتے ہیں دَہر کو کیمیا گری کا
اسی نے اپنے گداگروں کو مزاج بخشا ہے افسری کا
اسی کے گھر مخزنِ ہدایت، یہی ہے محور پیمبری کا
اسی کے نقشِ قدم کی مٹی سے راز ملتا ہے بُوذری کا
——
اسی کی خوشبو کا نام جنت ہے گنگاتی ہوا سے پوچھو
جنابِ زہرا کے مرتبے کو نصیریوں کے خدا سے پوچھو
——
یہ ایسی مشعل ہے جس کی کرنوں سے آگہی کے اُصول چمکے
اسی کے د م سے زمانے بھر کی جبیں پہ نامِ رسول چمکے
——
بہشت کیا ہے؟ تری مودت کے بحرِ زریں کی بیکرانی
یہ عرش کیا ہے؟ زمیں پہ آنے سے پیشتر تری راجدھانی
شعور کیا ہے؟ ترا تعارف، یہ دین کیا ہے؟ تری کہانی
عذاب کیا ہے؟ غضب ہے تیرا، ثواب کیا ہے؟ تری مہربانی
——
یہ کہکشاں رہگزر ہے تری، یہ آسماں سائباں ہے تیرا
فلک پہ تاروں کی بھیڑ کیا ہے؟ رواں دواں کارواں ہے تیرا
——
تو ایسا نقطہ ہے جس کے دامن میں حق کی مرضی سمٹ رہی ہے
تری مشیت ہر ایک لحظہ نقابِ ہستی اُلٹ رہی ہے
ہے جس قیامت کا نام بخشش، تری ردا سے لپٹ رہی ہے
یہ سانس لیتی ہے ساری دنیا کہ تیری خیرات بٹ رہی ہے
——
تری عطا کے سبھی سلیقے مرے دلِ حشر خیز میں ہیں
سبھی ہواؤں پہ راج تیرا، سبھی سمندر جہیز میں ہیں
——
لکھا ہے میں نے جو قصیدہ ،نہیں ہے کوئی کمال میرا
یہ سب کرم ہے تری نظر کا، قلم تھا ورنہ نڈھال میرا
——
یہ بھی پڑھیں : زہرا نگاہ کا یوم پیدائش
——
اب آخر میں ایک اور شاعر ِ اہل ِ بیت اطہار علیھم السلام کی منقبت در شان ِفاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا
آپ کی نذر ہے۔اس منقبت میں ان کے بہت سےاسمائے گرامی بھی شامل ہیں ۔قرآن و احادیث کی روشنی میں سیدعارف معین بلے نے محبت اور عقیدت کے گلاب اُم ابیھا بی بی سیدہء کائنات فاطمۃ الزھرا سلام اللہ کی شان میں یہ منقبت لکھی ہے۔ یہاں یہ بتانا غیر ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ یکم جنوری دوہزارتیئیس کوسیدعارف معین بلے کی ایک منفرد نوعیت کی کتاب منظرعام پر آئی ہے جو خیر النساالعالمین بی بی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ اور عام اسلام کی خاتون اول بی بی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی منظوم سوانح ِ زندگی ہے ۔اس میں نثر میں کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔پوری سوانح ِ حیات منظوم ہے۔بہرحال فی الحال تو آپ ملاحظہ فرمائیے منقبت در شان ِ فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا۔
——
منقبت در شان ِفاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا
منقبت نگار : سید عارف معین بلے
——
سیدّہ ، خیرالنساء ، اُم الائمہء کرام
مادرِ آلِ محمد ، دُخترِ خیرالانام
رشکِ مریم ، زوجہ ءمولا علی ، ذی احتشام
جملہ مستورات کی سردار ومخدومہ سلام
——
السّلام اے نور عین سرورِکون و مکاں
بیٹے سردارانِ جنت، باپ فخرِ دوجہاں
قافلہ سالارِ عظمت آپ خاتونِ جناں
عرش کو ہے نازجس پر آپ کا ہے آستاں
——
فاطمہ زھرا ہیں بے شک شکل ِانسانی میں حور
رحمۃ للعالمیں کی آپ ہیں آنکھوں کا نور
جس سے یہ راضی ہوں ، اُس سے راضی ہوربِ غفور
میری جاں ہیں آپ، فرماتے تھے یہ میرے حضور
——
مرحبا ، صلِ علیٰ کہ آپ ہیں بنت ِ رسول
مادر ِآل ِ نبی ، گلدستہ ء عصمت کا پھول
فاطمہ زہرا ہیں ذکیہ ، راضیہ ، عذرا ، بتول
حشر میں ہوگی شفاعت آپ کی بے شک قبول
——
عالم ِ اسلام کی خاتون ِ اوّل کا وقار
فخر حوّا ، رشک ِ مریم ، آسیہ کا افتخار
مظہر ِ شان ِ نبی ء رحمت ِ پروردگار
دست قُدرت کایقیناً آپ ہیں اِک شاہکار
——
دیکھو جبریل ِ امیں ہیں آپ کے دَر کےگَدا
آئے ہیں بن کر بھکاری ،وقت ہے افطارکا
دیدیا سب کچھ اُنہیں، جو کچھ بھی افطاری میں تھا
گھونٹ سے پانی کےروزہ تیسرابھی کُھل گیا
——
عالمہ بھی ،عابدہ بھی ،طاہرہ بھی فاطمہ
سورہء کوثر کی ہیں تشریح بے شک فاتحہ
مالکہ ملکہ ، صبیحہ ، صادقہ اور صالحہ
آپ ہیں والعصر معنی ءحروف ِ ہل اَتیٰ
——
باپ صادق اور امیں، بیٹی امینہ، صادقہ
آپ کے کیا کہنے صدیقہ، حلیمہ ، آمنہ
مریم ِ کبریٰ بھی تھیں مستورومخفی آپ میں
صورت و سیرت میں ہے جلوہ رسول ِپاک کا
——
راکعہ بھی ،ساجدہ بھی ،عابدہ بھی فاطمہ
عالمہ ہیں ،فاضلہ ہیں،صالحہ بھی فاطمہ
ذاکرہ بھی،شافعہ بھی ،دانیہ بھی فاطمہ
عظمت و رفعت میں مرویٰ و صفا بھی فاطمہ
——
مخزن ِ فخر و توکّل ، معدنِ عظمت سلام
منبع ِ جود وکرم ، اے سربسر رحمت سلام
السّلام اے پنجتن کی شان اور شوکت سلام
محورِ اہل ِ کِسا، سادات کی عزت سلام
——
اہلِ بیتِ پاک کابھی مرکزومحورہیں آپ
نازشِ کونین بھی ہیں، فخر ِپیغمبر ہیں آپ
ہمسر ِمولودِ کعبہ، ہمدم ِ حیدر ہیں آپ
دین و دنیا کے جمال وحسن کا مظہر ہیں آپ
——
یہ بھی پڑھیں : یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر
——
آپ کی ہردوہتھیلی پر مشقت کے ہیں پھول
سورہ ء کوثر کی بے شک آپ ہیں شانِ نزول
ہیں طہارت یاب یوں دنیامیں کہلائیں بتول
آیہء تطہیر کا عنوان ہیں بنتِ رسول
——
باعثِ رحمت برائے ر حمتہ للعا لمیں
آپ صادق اور امیں کے بھی خصائل کی امیں
آپ کے تودَر کے بھی دربان ہیں روح الامیں
آپ ساکوئی نہیں ہے،کوئی ہو سکتا نہیں
——
شاہزادی شاہِ دوعالم کی ، یکتا ہر ادا
آپ کی پوشاک میں بھی کام ہے پیوند کا
فقر وفاقے میں بھی یہ دیکھی گئی شانِ سخا
کوئی خالی ہاتھ اس دَر سے نہیں لوٹاگدا
——
احمد مرسل بجالاتے تھے ان کا احترام
ان کی آمد پرکھڑے ہوکر وہ کرتے تھے سلام
مرحبا!یہ شان ،یہ عزت،یہ عظمت ،یہ مقام
مرتبت ایسی ہے کس کی؟ہے کوئی کیااور نام
——
اپنی پلکیں ان کے رستے میں بچھادیتے تھے آپ
یوں بھی عظمت ان کی دنیا کو دکھا دیتے تھےآپ
ان کی خاطر فرش پر کملی سجادیتے تھے آپ
خود کھڑے ہوکے انہیں اس پر بٹھادیتے تھے آپ
——
ہے کوئی ہستی جسے یہ شان، یہ عزت ملِی؟
فرش پر رہتے ہوئے بھی عرش کی رفعت ملِی
ان کو دربار ِرسالت میں بھی افضلیت ملِی
آپ کو ورثے میں بھی قرآں ملا، حکمت ملی
——
ناز ہے تقوے کو جس پر آپ کی ہے زندگی
رشک پیغمبر کریں ایسی ہے عصمت آپ کی
ہاں!لقب اُمّ ابیھا کا بتاتا ہے یہی
ہیں نبی سے آپ بے شک ، آپ ہی سے ہیں نبی
——
باپ سے بیٹی کا ہونا تو سمجھ آتا ہے پر
باپ کا بیٹی سے ہونا عقل سے ہے بالاتر
پھول، پھل، چھا ؤں کا منبع کون؟ کہناسوچ کر
درحقیقت آپ ہیں باغِ رسالت کا شجر
——
یوں ملا ہے آپ کو اُم ابیھا کا خطاب
آپ سے بے شک نبوت اور رسالت فیضیاب
سورہء کوثرہے دشمن کے سوالوں کا جواب
آپ سے نسلِ محمد کی بقا، عصمت مآب
——
یہ بھی پڑھیں : یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر
——
بخت یوں بھی اپنےبچوں کا جگا دیتی ہیں آپ
لوریاں قرآن کی دے کر سُلا دیتی ہیں آپ
رات کے پچھلے پہر اُن کو اُٹھا دیتی ہیں آپ
رحمتیں کیسے اترتی ہیں ، دِکھا دیتی ہیں آپ
——
آپ ہی کے گھر میں ہے ختمِ رسالت مرحبا
آپ کے گھر کا تفاخرہے امامت، مرحبا
شان کے شایان ہے بے شک ولایت مرحبا
آپ ہیں سرچشمہ ء رُشد و ہدایت مرحبا
——
آپ ہیں آنکھوں کی ٹھنڈک سرور ِکونین کی
آپ کے قدموں تلے جنت بھی ہے حسنین کی
روشنی باقی —-ہے برکت آپ کے قدمین کی
ہیں نچھاور آپ پر سب رحمتیں دارین کی
——
صحنِ بزم ِ دوجہاں میں چاندنی زہراکی ہے
آج عورت کا تقدس ، روشنی زہراکی ہے
جو رِدا تارِمقدس سے بنی زہراکی ہے
ہے بدن پر جو حرم کے اوڑھنی زہراکی ہے
——
سیّدہ کی چادرِ تطہیر کو میرا سلام
ان کی مدحت میں ہر اِک تحریر کو میرا سلام
شان میں زہرا کی ہر تسطیر کو میرا سلام
آیہ ء تطہیر کی تفسیر کو میرا سلام
——
دولتِ دُ نیا و دیں ہے آپ کے دامان میں
ہے عقیدت آپ کی شامِل مِرے ایمان میں
سوچئے، اَب کیا کہوں میں فاطمہ کی شان میں
آپ کی لکھی ہوئی ہے منقبت قرآن میں
——
رات دن تسبیح ہے، تحمید ہے، تکبیر ہے
فاطمی تسبیح ہے کیا ؟نسخہ ءاکسیر ہے
یہ وظیفہ ایساہے، جس میں بڑی تاثیر ہے
ذکر سے دُکھ دور کرنا آپ کی تدبیر ہے
——
تولنا ممکن کہاں ہے؟ رحمتِ پروردگار
آپ کے بے شک محاسن کا نہیں کوئی شمار
مجھ پہ ہوجائے کرم کی اک نظر ہے انتظار
ہوں تہی داماں مگر بس آپ پر ہے اعتبار
——
منقبت در شان ِفاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا
منقبت نگار : سید عارف معین بلے
اللہ تبارک و تعالی ٰ کو منظور ہوا تو میں خاتون ِ جنّت مخدومہءکائنات اُم السبطین بی فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا کی شان ِ اقدس میں ایک الگ سے مضمون لکھ کر سعادتیں سمیٹنے کی جلد کوشش ضرور کروں گا۔

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ