مرے سخن میں بھی حرفِ ثبات سا کچھ ہو
غزل بہت ہوئی اب مجھ سے نعت سا کچھ ہو یہ میرا سانسں مرے دل پہ سبز رنگ کرے کہ مجھ میں شہرِ مدینہ کی بات سا کچھ ہو درود پڑھتا ہوں ہونٹوں سے اور یہ سوچتا ہوں روئیں روئیں سے اسی واردات سا کچھ ہو انہیں کا نام لکھا جائے جا بجا مجھ میں […]