اردوئے معلیٰ

خدیجۃ الکبریٰ : عالم ِ اسلام کی خاتون ِاَوّل کوسلام

——
ذات ِ بابرکات بے شک آبرو مکّہ کی ہے
شان لاثانی خدیجہ ،سَیّدہ ، کُبریٰ کی ہے
کوئی ہم سر ہی نہیں پورے جہاں میں آپ کا
آپ کے قدموں میں جنّت فاطمہ زھرا کی ہے
——
اُمہات المومنیں تارے ، یہ ہیں ماہ ِ تمام
پنجتن کا فخر ، دُنیائے عرب کا احتشام
مادر ِ اُم ِ اَبیھا ۔ زوجہ ء خیر الانام
عالم ِ اسلام کی خاتون ِ اَوّل کو سلام
خدیجۃ الکبریٰ : عالم ِ اسلام کی خاتون ِاَوّل کوسلام
منقبت نگار: سیدعارف معین بلے
اُمہات المومنیں تارے ، یہ ہیں ماہ ِ تمام
پنجتن کا فخر ، دُنیائے عرب کا احتشام
مادر ِ اُم ِ اَبیھا ۔ زوجہ ء خیر الانام
عالم ِ اسلام کی خاتون ِ اَوّل کو سلام
——
ذات ِ بابرکات بے شک آبرو مکّہ کی ہے
شان لاثانی خدیجہ ،سَیّدہ ، کُبریٰ کی ہے
کوئی ہم سر ہی نہیں پورے جہاں میں آپ کا
آپ کے قدموں میں جنّت فاطمہ زھرا کی ہے
——
بھیڑ میں دُنیا کی ہے ،سر سب سے اونچاآپ کا
ہے یقیناً مرتبہ ارفع و اعلی ٰ آپ کا
پنجتن میں تو نہیں ، پر پنجتن ہیں آپ کے
ہے محمد مصطفیٰ کے بعد رُتبہ آپ کا
——
اللہ اللہ ، نازش ِ اہل ِ کسا بھی آپ ہیں
قابل ِ صد آفریں مِدحت سَرا بھی آپ ہیں
آپ ممدوح ِ محمد مصطفیٰ صلّ ِ علی ٰ
ہے یہ فرمان ِ نبی خیر النساء بھی آپ ہیں
——
زندہ دل ،ہنس مکھ ، محبت آشنا ، خندہ جبیں
راحت ِ جاں تھیں برائے رحمۃ للعا لمیں
مرحبا ، کردارمیں، اطوارمیں ،گفتار میں
پوری دنیا میں یقیناً آپ سا کو ئی نہیں
——
اے رفیقہ ء حیات ِ فخر ِ آدم السلام
السلام اے ناز ِ حوّا ، رشک ِ مریم السلام
ہے دلوں پر مومنوں کے حُکمرانی آپ کی
السلام اے ملکہ ء شاہ ِ دوعالم السلام
——
آپ اُم ِ ہند بھی ہیں ، طاہرہ بھی آپ ہیں
عابدہ بھی ، زاہدہ بھی ، صالحہ بھی آپ ہیں
روشی ہی روشی ہے آپ کا ہر نقش ِ پا
سب خواتیں ِ جہاں کی رہنما بھی آپ ہیں
——
پارسائی اِن کا گہنا ، دیدنی حسن و جمال
جراءت و عزم و شجاعت میں ہیں آپ اپنی مثال
پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی کبھی
یہ رہیں اپنے شر یک ِ زندگی کی بن کے ڈھال
——
آپ ماں سب مومنوں کی ، دُختر ِ اُم القریٰ
آپ ہی عہد ِ رسول ِ پاک کی ہیں ہاجرہ
ربّ العزت بھیجتا ہے آپ کو بے شک سلام
آپ سا کوئی نہیں ہے اِس جہاں میں دوسرا
——
خدمت ِ دیں ِ مبیں میں زندگی کر لی تمام
جی اُٹھی ہیں جیت کر بے شک دل ِ خیرالانام
سوچئے تو کتنا اعلیٰ ، ارفع ہے اِن کا مقام
بھیجتا ہے رَب العزت بھی انہیں اپنا سلام
——
غور کیجے ، سوچئے تو کیاہے یہ چھوٹی سی بات ؟
پنجتن کی مرکز و محور ہے بے شک ان کی ذات
ہے محمد مصطفیٰ کی نسبت و قربت کا فیض
آپ کے گھر میں ہے یکجا سارا حُسن ِ کائنات
——
شان تو دیکھو کہ شوہر ان کے ہیں مولائے کُل
اور ، بیٹی فاطمہ خاتون ِ جنت ہیں حضور
دونوں سرداران ِ جنت ہیں نواسے آپ کے
ہیں علی داماد باب ِ شہر ِ عرفان و شعور
——
رحمۃ للعالمیں کی ہیں رفیقہ ء حیات
گزری چوتھائی صدی ان کی یقیناً خوب ساتھ
دوسری شادی نہیں کی، آپ کے ہوتے ہوئے
غور کیجے تو نہیں ہے ،یہ کوئی چھوٹی سی بات
——
سب سے پہلے دیں کیا ہے آپ نے بے شک قبول
اس لئے کہ آپ کے محبوب و ہمدم ہیں رسول
پہلی پہلی ماں بھی بے شک آپ ہی امت کی ہیں
آپ پر قدرت نے برسائے سدا رحمت کے پھول
——
عالم ِ اسلام کی خاتون ِ اَوّل آپ ہیں
اللہ اللہ دھوپ کے صحرا میں بادل آپ ہیں
ہے رفاقت آپ کی پچیس برسوں پر محیط
سرور ِ کون و مکاں کے ساتھ پَل پَل آپ ہیں
نبی ء رحمت اور خدیجۃ الکبریٰ کی مشترکہ تجارت
آپ دُنیائے عرب میں تھیں نہایت مال دار
نیک سیرت تھیں اور ان کی زندگی تھی باوقار
دے کے دولت کردیا تھا ساتھ اِک خدمت گزار
بخت جاگ اُٹھا جو چمکا مصطفیٰ کا کاروبار
واپسی پر خادم نےتعریفوں کےپُل باندھ دئیے
حُسن میں یکتا تھے وہ ، تھی ان کی صورت دیدنی
صرف صورت ہی نہیں ،تھی ان کی سیرت دیدنی
آکے خادم نے بتایا کوئی بھی اُن سا نہیں
ہے تجارت دیدنی ، ان کی دیانت دیدنی
——
ساتھ بھیجا تھا مجھے جن کے۔ ہیں بے حد بااصول
مسکراہٹ یوں تھی لب پر جیسے کھل اُٹھے ہوں پھول
چال میں ان کی توازن تھا، چلن میں احتیاط
کیا کہوں کہ اُن سے کوئی چوک ہوتی تھی نہ بھول
تعریفیں سن کرشادی کافیصلہ کرلیا
جب خدیجہ کو بتایا آنکھوں دیکھا سارا حال
سُن کے تعریفیں اُنہیں یہ دَفعتاً آیا خیال
بخت جاگ اُٹھیں جو یہ بن جائیں میرے ہم سفر
زندگی میری سنور جائے گی ، ہوگی بے مثال
——
جاگتی آنکھوں سے بھی دیکھے بہت سے اور خواب
دھوپ کے صحرا میں ہے اب سرپہ رحمت کا سحاب
ہر ورق پہ وہ ہیں یا پھر اُن کی باتیں کیا کروں
ڈر ہے یہ کہ پڑھ نہ لے کوئی مِرے دل کی کتاب
——
اچھاہے کہ جذبہ یہ رشتے میں ڈھل جائے مِرا
کام آئے گی سہیلی، سوچا ، اور ، بلوالیا
گھر بسانا ہے مجھے ، اُن سے بس اِتنا ہی کہا
جا محمد مصطفیٰ کو میرا رشتہ دے کے آ
——
سرور ِ کون و مکاں بھی نکلے ان کےہم خیال
فرق ہے عمروں میں لیکن جوڑا ہے یہ بے مثال
اللہ اللہ بن کے دولہا آئے ہیں اِک نوجواں
مرحبا ، دیکھو دُلہن کی عمر ہے چالیس سال
شادی بندھن
پھول ہاتھوں میں اُٹھا رکھے ہیں یوں سارے شجر
سج گئی ہے بزم شادی کی ابو طالب کے گھر
دودلوں کی دھڑکنوں سے گونج اُٹھی ہے فضا
جھلملا اُٹھے ہیں اس گھر کے سبھی دیوار و دَر
——
سچ ہے کہ جوڑے بنائے ہیں خدانے عرش پر
ہو رہا ہے آج فرش ِ خاک پر اِن کا مِلن
مرکز و محور محمد مصطفیٰ ہیں کیا کہوں
جی اُٹھی ہیں خواب کی تعبیر پاتے ہی دُلہن
——
بن رہا ہے ایک صحرا میں گلستاں دیکھئے
مشکلیں ہونی ہیں اب دونوں کی آساں دیکھئے
کِھل اُٹھی دل کی کلی ، موسم مِلن کا آگیا
اللہ اللہ ہیں ابو طالب نکاح خواں ، دیکھئے
ابوطالب رضی اللہ عنھہ کا خطبہ ء نکاح
خطبے میں پہلے بیاں کی حمد ِ ربّ ِذوالجلال
ہم کہ ابراہیم واسما عیل کی بے شک ہیں آل
ہے یقیناً یہ گھرانہ ہی حرم کا پاسباں
ہے بھتیجا میرا دیکھو صاحب ِ فضل و کمال
——
حکمت و دانائی میں بھی ہیں محمد بے مثال
گرچہ کم ہیں پاس ان کے ظاہری اسباب و مال
حیثیت ہی مال کی کیا ہے؟ یہ ڈھلتی چھاءوں ہے
کردیا خطبے میں اپنے کھل کے اظہار ِ ِ خیال
——
ورقہ بن نوفل نے اس کے بعد اِک خطبہ پڑھا
بولے کُنبہ آپ کا بے شک ہے سردار ِ عرب
اِس حقیقت سے کوئی انکارکرسکتا نہیں
اِس گھرانے کو ،کوئی چیلنج کرسکتا ہے کب ؟
——
چاسو دِینار طے پایا تھا اس شادی پہ مہر
بیس اونٹوں کے مساوی تھی یقیناً یہ رقم
مہر یہ جتنا تھا ، مولا نے ادا فرما دیا
خوش نظر آئے نبھا کر فرض ہادی ء اُمم
——
آپ رخصت ہوکے آئی تھیں ابوطالب کے گھر
صرف اِک دو دن کئے دونوں نے اس گھر میں بسر
پھراجازت لی، نئی دُنیا بسالی آپ نے
ساتھ پھر دونوں رہے بن کر سدا شیر و شکر
شادی کی بی بی خدیجہ کی خوشی
آپ سے شادی کی خدیجہ کو تھی اِتنی خوشی
کردئیے سارے غلام آزاد وقت ِ رخصتی
دَف بجاؤ اس خوشی میں حکم جاری کردیا
دُنیا اس شادی کو رکھے یاد ساری زندگی
——
آپ ہیں ایثار و قربانی میں بے شک بے نظیر
پیکر ِ جود و سخا ، امن و محبت کی سفیر
لوٹتا تھا ہر سوالی بھر کے دامان ِ مراد
گویا حاتم طائی بھی، ان کا نہ تھا عشر ِ عشیر
دولت حضور کےقدموں پرنثارکردی
آکے اپنی ساری دولت کی ہے قدموں میں نثار
اِس عمل نے کردی دُلہن کی محبّت آشکار
دِل محمد مصطفی کا جیت کر خوش ہوگئیں
آگئی اُن کے خزاں دیدہ گلستاں میں بہار
——
یہ بھی توہے اِک حدیث ِ سرور ِ دنیا و دین
ہیں خواتیں چار ہی تو دُنیا بھر میں بہترین
نام ہے ان میں سر فہرست بے شک آپ کا
ہیں خدیجہ زوجہء محبوب ِ رب العالمین
غار ِ حرا
جب بھی جاتے تھے محمد مصطفیٰ غار ِ حرا
دے کے کرتی تھیں اُنہیں رخصت کئی دن کی غذا
ساتھ ان کے ہوتا تھا پانی سے مشکیزہ بھرا
اللہ اللہ ہیں خدیجہ پیکر ِ لُطف و عطا
——
زََم ِ لُونی ، زَ َم ِ لُونی کہتے جب آئے رسول
ہوچکا تھا آپ پر آیات ِ قرآں کا نزول
آپ نے کمبل اوڑھا یا تھا رسول ِ پاک کو
یہ بھی فرمایا رہے گی خیریت ، مت ہوں ملول
——
دوسری جانب یہ جا پہنچیں چچا نوفل کے پاس
دیکھ کربولےکہ کیاہےماجرا،کیوں ہواُداس
جب بتایا تو کہا ، یہ ہے نبوت کا ظہور
سُن کے باتیں جی اُٹھیں، جاتا رہا خوف و ہراس
——
یہ بھی فرمایا کہ اب اِک آنے والا ہے نبی
ہوگئے پیدا کہ جوآثار ہیں اس کے سبھی
واقعہ غار ِ حرا کا بھی بتاتا ہے یہی
دور ہونے ہیں اندھیرے، پھیلنی ہے روشنی
——
جب کیا اعلان مولا نے ،میں ہوں رب کارسول
سب سے پہلے دیں کیا بی بی خدیجہ نے قبول
رحمتیں اللہ کی بھی اُن پہ برسیں رات دن
اوراُدھر جاری رہا ، مولا پہ قرآں کا نزول
——
یکجا اُن کی ذات ِ بابرکات میں لاکھوں صفات
کرتے تھے اُن سے محبت آپ بے حد و حساب
حبس میں جھونکا ہوا کا، دھوپ میں تھیں وہ سحاب
بے سہاروں کیلئے بھی مرکز ِ اُمیّد تھیں
حکمت و فہم و فراست میں بھی تھیں وہ لاجواب
——
بے نواءوں کی نواتھیں، بے زبانوں کی زباں
بیوگاں جتنی بھی تھیں ، اُن کیلئے تھیں سائباں
تھی سخاوت اُن کی حاتم طائی سے بڑھ کر کہیں
تھیں خدیجہ بے امانوں کے لئے بے شک اَماں
——
آپ کے دَر سے نہیں لوٹا ہے کوئی خالی ہاتھ
بے کسوں کے کام آنا ہے وظیفہ ء حیات
ہے شعار اِن کا یقیناً خدمت ِ انسانیت
یکجا اِن کی ذات ِ بابرکات میں لاکھوں صفات
——
سب اثاثے بی بی خدیجہ کے نکلے کام کے
کام آئے یہ اثاثے مذہب ِ اسلام کے
ہے اطاعت مصطفیٰ کی ، خدمت ِ انسانیت
اللہ اللہ ، ہیں یہ معمولات صبح و شام کے
——
آپ ہیں بے شک عظیم المرتبت عالی مقام
آکے جبریل ِ امیں نے یہ دیا رب کا پیام
اِک محل جنت میں بنوایا ہے ، بس اُن کے لئے
آپ پہنچادیجے اُن کورب نے بھیجا ہے سلام
——
دین کیا ہے؟کام آنا، آپ نے بتلادیا
چہرہء اسلام یوں بھی دنیا کو دِکھلادیا
اُس کے آنسو پونچھ دو،جوبھی تمہیں روتا ملے
چل کے اِس رستے پہ یہ بھی فلسفہ سمجھا دِیا
——
رنگ لائیں کوششیں جوآپ نے کیں صبح و شام
رفتہ رفتہ دین اپنانے لگے پھر خاص و عام
دلکشی بے شک بڑھادی آپ نے اسلام کی
آپ کے کردار کی عظمت کو اُمت کا سلام
——
اور بھی ازواج تھیں پر آپ تو ہیں بے مثال
ساتھ گزرے ہیں رسول ِ پاک کے پچیس سال
آپ کے ہوتے ہوئے شادی نہیں کی آپ نے
دوسری لاتے کہاں سے؟ ایسی کوئی خوش خصال
——
فقر اور فاقے میں بھی گزرے تھے ان کے تین سال
جانتے ہیں لوگ سب شعب ِ ابی طالب کاحال
سہتے سہتے ظلم وہ بیمار ، آخر پڑ گئیں
اس علالت کے نتیجے میں ہوا اُن کاوصال
عام الحزن۔وصال کاسال
سرور ِ کونین پر ٹوٹا تھا یہ غم کا پہاڑ
دوسری جانب ابوطالب نے دےدی اپنی جان
آبدیدہ ہوگئے دل تھام کر اپنا حضور
گویاعام الحُزن ہے یہ صبر کااِک امتحان
——
سامنے آنکھوں کے سارے بیتے موسم آگئے
اللہ اللہ ، کھل گئے ساری حسیں یادوں کے دَر
آپ کی آنکھوں کےآگے بھی اندھیراچھاگیا
آرہی تھیں اس اندھیرے میں بھی خدیجہ نظر
——
پڑ گئے اس سوچ میں وہ کتنا رکھتی تھیں خیال
مالکہ گھر کی تھیں ۔وہ کرتی تھیں گھرکی دیکھ بھال
خواب میں ہی اب دکھائی دیں گی وہ شاید مجھے
یاد بن کر رہ گئیں ، اُن کو بھلانا ہے محال
——
ذکر چھڑ جاتا کبھی ان کا وہ دِن ہوتا،یا رات
یاد کرتے تھے رسول ِ محترم اُن کی صفات
وہ تھیں بوڑھی، ان سے بہتر آپ کی ازواج ہیں
دھچکا پہنچا تھا نبی کو عائشہ کی سُن کے بات
——
بات اتنی شاہ ِ دوعالم کو گزری ناگوار
چہرے سےبھی ناگواری ہورہی تھی آشکار
اُن سے ہی اولاد کی دولت خدا نے مجھ کو دی
کردیا تھا آپ نے سب مال و زر اپنا نثار
——
اُن سے اچھی کوئی بھی بیوی نہیں مجھ کوملی
آپ کے بارے میں اِک یہ بھی ہے فرمان ِ نبی
سارے ہی کافر تھے ،وہ ایمان مجھ پر لائیں تب
سب نے جھٹلایا مجھے توآپ نے تصدیق کی
——
قابل ِ تعظیم ہیں سب اُمہات المومنین
شاہ ِ دوعالم کی ہیں زوجہ خدیجہ اولین
یاد فرماتے رہے مولا اُنہیں تیرہ برس
جابسیں جنت میں لیکن پھر بھی ہیں وہ دل نشین
——
مشکلوں میں بھی نظر آئیں سدا ثابت قَدم
دشمنوں نے جب بھی توڑا سرور ِ دیں پر ستم
آپ نے ہمت بندھائی اور دل جوئی بھی کی
عمر بھربانٹے رسول ِ پاک کے سب درد و غم
——
اور بھی ازواج تھیں پر آپ تو ہیں بے مثال
ساتھ گزرے ہیں رسول ِ پاک کے پچیس سال
آپ کے ہوتے ہوئے شادی نہیں کی آپ نے
دوسری لاتے کہاں سے؟ ایسی کوئی خوش خصال
——
صبر و شکر و استقامت کی حسیں پیکر سلام
آپ قدرت کے خزانے کا ہیں اِک گوہر سلام
جراءت و عزم و شجاعت کاہیں اِک کوہ ِ گراں
کر رہا ہے آپ کو ہرایک دیدہ وَر سلام
——
مرحبا بے شک چلی ہے آپ سے نسل ِ رسول
ہیں یقیناً آپ ہی تو مادر ِ زھرا بتول
کیاکہوں کہ آپ ہیں اُم ِ ابیھا کی بھی ماں
کہہ رہی ہے سورہء کوثرکی یہ شان ِ نزول
——
مانتے ہیں غیر مسلم بھی یہی سیرت نگار
زندگی ہے آپ کی بے شک ہدایت کا مِنار
مرحبا ،ہیں بیوی ، بیٹی اور ماں کےروپ میں
قابل ِ تقلید بے شک آپ کے نقش و نگار
——
ہے خواتین ِ جہاں میں آپ کا اعلی ٰ مقام
آفریں صد آفریں اے زوجہء خیر الانام
کیاکہوں مولا علی بھی آپ کے داماد ہیں
فاطمہ زھرا کی ماں ، حسنین کی نانی سلام
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات