بعثتِ سرکار سے ہے ابتداے زندگی

بعثتِ سرکار سے ہے ابتدائے زندگی اُن سے پہلے زندگی تھی بس برائے زندگی دیدِ شہرِ نور سے ماقبل بس زندہ تھا میں پاس میرے تھا سبھی کچھ ماسوائے زندگی میں غلامِ آلِ اطہر ہوں تبھی بے خوف ہوں کیوں کہ یارانِ نبی ہیں ناخدائے زندگی دیدۂ نم ناک ترسیدہ ہے اب جلوہ کریں تا […]

اک نئی طرز سے میں نکھرتا رہا حمد کرتا رہا

نور لفظوں میں مدحت کا بھرتا رہا حمد کرتا رہا جس پہ یکتائی خود ناز کرتی ہے تُو ایسا نایاب ہے الاحد الاحد ورد کرتا رہا حمد کرتا رہا نام تیرا لیا شورشِ دہر میں بہرِ امداد اور میرا بگڑا مقدر سدھرتا رہا، حمد کرتا رہا کار سازِ حقیقی قوی جب پڑھا اس کی برکت […]

محشر میں دکھا دے کوئی ایوانِ محمد

فریاد یہ کرتے ہیں غلامانِ محمد میں اپنے گناہوں کو چھپاؤں گا اُسی میں آ جائے جو ہاتھوں میں وہ دامانِ محمد میں اُن کی بتائی ہوئی راہوں پہ چلوں گا قرآن ہے میرے لیے فرمانِ محمد واقف نہیں جنت کے مکیں دورِ خزاں سے پھولوں سے لَدا ہے وہ گلستانِ محمد وہ چھاؤں میں […]

اُمت کے سربراہ مرے مصطفٰے جو ہیں

مشکل کو حل کریں گے وہ مشکل کشا جو ہیں ہر اُمتی کے گھر میں اُجالا ضرور ہے اُمت کے خیر خواہ وہ نُورِ خدا جو ہیں کشتی میں جا رہا ہوں زمینِ حجاز پر حافظ خدا ہے ساتھ وہ صلِ علیٰ جو ہیں ناصرؔ نہ ڈر کہ تیری شفاعت کریں گے وہ محشر میں […]

محمد مصطفیٰ کی آ رزو کر لوں

محمد مصطفیٰ کی آرزو کر لوں مگر پہلے میں اشکوں سے وضو کر لوں بہت روضے کو دیکھا ہے تصور میں میں اپنے آپ کو بھی روبرو کر لوں مجھے بھی عشق ہے محبوب سے تیرے اجازت ہو تو میں بھی جستجو کر لوں مجھے روضے پہ اے دل حوصلہ دے دے میں اُن سے […]

یہ معجزہ بھی کسی دن شہِ حجاز کرے

بلا کے روضے پہ مجھ کو بھی سرفراز کرے وہ خوش نصیب جو گھر سے خدا کے آیا ہے اُسے کہو کہ وہ جتنا بھی چاہے ناز کرے میں اِک نماز میں سب کچھ خدا سے لے لوں گا اگر قبول جو مولا مری نماز کرے میں روز پھول نچھاور کروں گا روضے پر مرے […]

جانا مدینے پھر مرا سچ مچ وصول ہو

منہ پر مَلی ہوئی مرے مکے کی دھول ہو تخلیق مجھ سے ایسی بھی نعتِ رسول ہو میرے حضور کو بھی جو دل سے قبول ہو ہو جاؤں غرق میں بھی محمد کے عشق میں میرے لہو میں ایسا جنوں بھی حلول ہو جا کر جسے حضور کے روضے پہ رکھ سکوں ناصرؔ ہمارے باغ […]

اک ترے اسمِ گرامی پہ فدا ہوتا ہے

خامۂ عجز تری سمت جھکا ہوتا ہے روز کرتے ہیں سبھی نت نئے انداز میں حمد ہاں مگر حقِ ثنا کس سے ادا ہوتا ہے اس کو رہتی ہی نہیں تاج و سیادت سے غرض رشکِ شاہان ترے در کا گدا ہوتا ہے مجھ کو ملتا ہے سکوں نام ترا لینے سے مضطرب قلب جب […]

سجی ہے رنگ رنگ کائناتِ رَبِّيَ الْعَظِیْم

حدودِ حمد سے ورا ہے ذاتِ رَبِّيَ الْعَظِیْم ودود ہے، مجیب ہے، کریم ہے، حفیظ ہے ولی کرم عطا غنا صفاتِ رَبِّيَ الْعَظِیْم وہ خالق و وکیل ہے وہ مالک و جلیل ہے بہ نطقِ مصطفیٰ ہیں محکماتِ رَبِّيَ الْعَظِیْم وہ ابتدا کی ابتدا وہ انتہا کی انتہا گماں سے بھی ورا ہیں معجزاتِ رَبِّيَ […]

کہاں انسان سے ہو پائے گی مدحت محمد کی

زباں کر ہی نہیں سکتی بیاں عظمت محمد کی خدا خالق ہے ، ربِ دو جہاں ہے اس میں کیا شک ہے یقیناََ قائم و دائم رہی حُجت محمد کی ادھر زنجیر میں جنبش ، ادھر گرمی ہے بستر میں ادھر وہ لوٹ بھی آئے ، یہ ہے رفعت محمد کی ادھر لشکر لعینوں کے […]