راہِ حق سے ہمیں آشنا کر گئے
دردِ انسانیت کی دوا کر گئے اُن کی خیرالورائی کے صدقے حفیظؔ اُن پہ قرباں جو سب کا بھلا کر گئے
معلیٰ
دردِ انسانیت کی دوا کر گئے اُن کی خیرالورائی کے صدقے حفیظؔ اُن پہ قرباں جو سب کا بھلا کر گئے
عام ہے چشمۂ فیضانِ رسولِ عربی غیر ممکن اُسے عرفانِ خدا ہو حاصل جس کو حاصل نہیں عرفانِ رسولِ عربی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی وہ محمد کا پیارا نواسا جس نے […]
ورنہ تو حرف خود ہی سُبک سارِ حرف ہے واللہ ، تیرے نام سے ہے آبروئے نطق واللہ ، تیری نعت سے پندارِ حرف ہے تُو خامہ و بیاں کی ہے آخری طلب تُو ہی کرم نواز و شرَف بارِ حرف ہے اِک نام ہے جو کھولتا ہے بابِ معرفت ورنہ تو سب حجاب ہے […]
مصرعِ نعتِ شہِ ہر دو جہاں باندھا ہے ایک بھی شعر تری شان کے شایاں نہ ہُوا لاکھوں حرفوں میں زرِ حُسنِ بیاں باندھا ہے اِک ترا خواب ہی آنکھوں میں سجایا ہے مدام اِک ترا شوق ہی پلکوں میں رواں باندھا ہے ہر نفَس رشتۂ توصیف سے ہے پیوستہ مدحتِ شاہ کا ہر حرف […]
دل شہِ دیں کی دسترس میں ہے تیری نسبت سے ہُوں چمن آثار ورنہ کیا میرے خار و خس میں ہے پُوری کر دیجیے بہ اذنِ سفر اک کمی سی جو اِس برس میں ہے جو بھی چاہے درِ کریم سے مانگ کیوں دلِ زار پیش و پس میں ہے کتنی دل جُو ہے وہ […]
مرے بے نمود خیال کو ، ذرا اپنا عکسِ خیال دے کوئی خوف سا ہے پسِ نہاں ، کوئی حُزن سا ہے قرینِ دل کسی رتجگے کی اُداس شب ، مجھے لمسِ خوابِ وصال دے ترے پاس آیا ہُوں عفو جُو ، بہ حصارِ شعلۂ معصیت کوئی موجِ قُلزم مغفرت ، مری فردِ جاں پہ […]
پیش و پسِ احساس ترا نام بہت ہے بندے کو نہیں خلعتِ شاہی کی ضرورت بندے کو تری نعت کا احرام بہت ہے آلام زدہ خاطرِ تسکین طلب کو اِک نعت تری قاسمِ آرام ! بہت ہے اِک موجِ نظر بہرِ طلب زارِ تجلی اِک چشمِ کرمِ بار پئے خام ، بہت ہے کیا نام […]
جوازِ رفتہ و آئنہ کل ہے ذکرِ نبی گرے ہُوؤں کو اُٹھائے حضور کی نسبت دمِ فتادگی کیا بر محَل ہے ذکرِ نبی خدا کا شکر ، نہیں اور کچھ لبوں پہ مرے مری زبان پہ وقتِ اجَل ہے ذکرِ نبی سخن وبال ہے اور نعت ہے نویدِ سکوں سکوت کرب ہے اور اس کا […]
تری ثنا کی طراوت سے باغِ کُن فیکوں بیانِ مدح میں عاجز رہے بہ عجزِ اَتم ہزار ذوقِ تکلم ، ہزار جذبِ دروں وفورِ شوقِ سفر میں ہے شوق خود حائل سو عرض کرنا چاہُوں ، کروں تو کیسے کروں ورائے حرف و بیاں بھی رہُوں ثنا گستر مرے نصیب میں لکھ دے شرَف یہ […]