اپنی ہستی حباب کی سی ہے

عمر ساری سراب کی سی ہے حبِ سرکار گر نہ ہو دل میں زندگانی عذاب کی سی ہے ہجر طیبہ میں بے کلی ہے بہت ’’حالت اب اضطراب کی سی ہے‘‘ عمرِ سرکار کا ہر اک لمحہ سامنے اک کتاب کی سی ہے عاصیوں پر حضور کی رحمت چھاؤں ٹھنڈی سحاب کی سی ہے ہے […]

جو کچھ بھی ہے جہان میں سارا نبی کا ہے

سارے جہاں میں نُور اجالا نبی کا ہے گرچہ ہیں خالی ہاتھ پہ رہتے ہیں مطمئن شکرِ خدا کہ ہم کو سہارا نبی کا ہے ڈوبا ہوا تھا مہر، سرِ عصر پھرایا ٹکڑے ہوا ہے چاند اشارہ نبی کا ہے اس کے تو رزق و مال میں کیونکر کمی رہے جو خوش نصیب ، مانگنے […]

’’دن کا آغاز کیا سورۂ رحمٰن کے ساتھ‘‘

اب تعلق ہے مری روح کا قرآن کے ساتھ نورِ قرآن اترتا ہے انہی کے دل پر ہو دلی عشق جنہیں صاحبِ قرآن کے ساتھ جن کو ہوتی ہے شہِ کون و مکاں سے الفت وہ سوئے حشر چلے مژدۂ غفران کے ساتھ پہنچے سدرہ پہ تو جبریل رکے اور کہا اس سے آگے کی […]

جن کی نعتِ نبی زندگی ہو گئی

ان کی پاکیزہ تر شاعری ہو گئی یہ جہاں تھا اندھیروں میں ڈوبا ہوا ’’ مصطفٰے آ گئے روشنی ہو گئی ‘‘ والضّحٰی کا جو ہر سُو اجالا ہوا دُور عالَم کی سب تیرگی ہو گئی جب بھی لایا تصور میں در آپ کا گھر میں بیٹھے مری حاضری ہو گئی نامِ سرکار پر جان […]

آپ کا حُسنِ تصور لطف فرماتا رہا

میں مدینے کی طرف آتا رہا جاتا رہا اِس طرف پڑھتا رہا میں جھوم کر نعتِ رسول اُس طرف دریائے رحمت جوش میں آتا رہا لوگ تیری راہ میں کانٹے بچھاتے ہی رہے پھر بھی تُو لطف و کرم کے پھول برساتا رہا آستانے سے ترے ملتی ہے راہِ مستقیم تیرے در سے جو بھی […]

کچھ عجب انداز سے ہے دل پہ ثنا کی تنزیل

خامہ اِک ہاتھ تو اِک ہاتھ پرِ جبرائیل سلسلہ فن سے تو مشروط نہیں مدحت کا قاسمِ خیر ہیں خود حرفِ عقیدت کے کفیل خُوشبوئے اسم نے رکھا ہے جوارِ گُل میں طلعتِ نعت سے روشن ہے سُخن کی قندیل کاسۂ نطق میں رخشاں ہیں ثنا کے موتی نعت ہی کے زرِ خالص سے بھری […]

مُصحفِ لا ریب کی تفسیرِ مدحت لَم یزَل

اوجِ ذکرَک بے نہایت ، موجِ رفعت لَم یزَل کس تناظر میں بیاں ہو شانِ معراجِ نبی مطلعِ اظہار پر ہے نقشِ حیرت لَم یزَل انفس و آفاق میں ہے خیر پرور ، نُور بار صبحِ میلادِ کرم کی رُودِ طلعت ، لَم یزَل ملتوں اور منطقوں میں آتی جاتی تھی ، مگر اب گُلِ […]

خیال میں بھی جو آئے ترے خیال کے رنگ

سخن کے اوج پہ چھائے ترے خیال کے رنگ خزاں نے بابِ مقدر پہ جب بھی دستک دی بہار بانٹتے آئے ترے خیال کے رنگ نظر کی تاب سے ممکن نہ ہو سکی تدبیر سو ہم نے دل میں سجائے ترے خیال کے رنگ کہیں جمی جو کوئی محفلِ ثنا گوئی بجائے شعر سُنائے ترے […]

خواہشِ دل سے ماورا بھی مانگ

خود سے ہو کر ذرا جُدا بھی مانگ درگہِ قاسمِ تمام ہے یہ خُلق بھی ، خَلق بھی ، خُدا بھی مانگ بے نہایت کرم نواز ہیں وہ حدِ مطلوب سے سوا بھی مانگ جن سے خیراتِ لطف مانگی ہے اُن سے گُنجائشِ عطا بھی مانگ مالکِ کُل خیار ہیں آقا اُن سے ہی آب […]

قلبِ ویراں کو نُور دیتا ہے

بندگی کا شعور دیتا ہے صدقِ دل سےجو مغفرت مانگے اس کو ربِ غفُور دیتا ہے ذکرِ مولا ہی جان لو اتنا راحتوں کا وفُور دیتا ہے ذکر اُس کا ہو ، وہ بھی خلوت میں اک عجب سا سرور دیتا ہے حمد و مدحِ حبیب کی خاطر کتنی عُمدہ سطور دیتا ہے جو بھی […]