اپنی ہستی حباب کی سی ہے
عمر ساری سراب کی سی ہے حبِ سرکار گر نہ ہو دل میں زندگانی عذاب کی سی ہے ہجر طیبہ میں بے کلی ہے بہت ’’حالت اب اضطراب کی سی ہے‘‘ عمرِ سرکار کا ہر اک لمحہ سامنے اک کتاب کی سی ہے عاصیوں پر حضور کی رحمت چھاؤں ٹھنڈی سحاب کی سی ہے ہے […]