صدق و صفا کے پیکر صدّیقِؓ با وفا ہیں

سب رہبروں کے رہبر صدّیقِؓ با وفا ہیں تکتے تھے غار میں وہ روئے حبیب تنہا ہو گا وہ کیسا منظر صدّیقِؓ با وفا ہیں وہ سفر، حضر ہو یارو کہ لحد کی ہو رفاقت رہے ساتھ جو برابر صدّیقِؓ با وفا ہیں اصحابیت پہ ان کی مُصحف کرے دلالت جن کا ہے یہ مُقدّر […]

علیؓ کے پسر ہیں جنابِ حسنؑ

نبی کے جگر ہیں جنابِ حسنؑ شبیہِ پیمبر ہیں جو ہو بہو حسِیں خوب تر ہیں جنابِ حسنؑ جھلکتا ہے چہرے سے عکسِ نبی وہ رشکِ قمر ہیں جنابِ حسن فراست جھلکتی ہے گفتار سے ذکا سر بسر ہیں جنابِ حسنؑ دیا ظلمتِ شب کو جس نے اُجال وہ روشن سحر ہیں جنابِ حسنؑ مرے […]

سارے عالم میں انوار کی روشنی

چار سُو ان کے افکار کی روشنی تیرگی میرے من میں ہو کیسے بھلا میرے اندر ہے سرکار کی روشنی پھر زمانے میں جھکتے نہیں ان کے سر جن کے ہاتھوں میں تلوار کی روشنی ان کے گھر میں رہے گا اندھیرا سدا جن کو مطلوب اغیار کی روشنی فصل بوتے ہیں جو حُسنِ اعمال […]

مہکی ہوئی من کی جو فضا دیکھ رہا ہوں

آتی ہوئی طیبہ کی ہوا دیکھ رہا ہوں ہو جائے کبھی مجھ کو شہا اذنِ حضوری میں تیری طرف جانِ وفا دیکھ رہا ہوں اللہ کا گھر وا ہوا ، سرکار کا در بھی ٹلتی یہ کرونا کی وبا دیکھ رہا ہوں سرکارِ دو عالم کے ہے چہرے کا یہ پرتو جوچرخ پہ تاروں میں […]

کملی والے آپ نے ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا

بے کس و بد حال کو رشکِ زمانہ کر دیا کٹ گئی جڑ کفر کی ،ہر شرک کی، الحاد کی ارضِ بطحا کو شہا! یوں صاف ستھرا کر دیا آپ کا آنا ہوا دن پھر گئے مظلوم کے بے کس و لا چار کے غم کا مداوا کر دیا انتشار و افتراق و دشمنی کی […]

چشمِ عالم نے وہ شانِ شہِ بطحا دیکھی

ان کی ناموس پہ مرتے ہوئے دنیا دیکھی جس کی موسیٰؑ نے فقط ایک تجلی دیکھی تو نے وہ ذات سرِ عرشِ معلٰی دیکھی جن کا بستر تھا چٹائی کا، غذا نانِ جویں ان کی دہلیز پہ جھکتے ہوئے دنیا دیکھی خانہ کعبہ میں وہ پتھر کے پجاری بندے سب نے اللہ کو مانا تری […]

حبِ رسول ، مدحت و قرآن جائے گا

ہمراہ میرے بس یہی سامان جائے گا راضی کرو حضور کو چاہو اگر نجات مانے اگر حضور تو رب مان جائے گا ایمان تو ہے نام ہی حُبِّ رسول کا جنت میں صرف صاحبِ ایمان جائے گا لب پر درودِ پاک ہی جس کے سجا رہا وہ قبر میں حضور کو پہچان جائے گا جو […]

چلتے چلتے جو نظر شہرِ مدینہ آیا

خود بخود زیرِ قدم اوج کا زینہ آیا مشک و عنبر کا بھلا اس سے تقابل کیسا میرے آقا کے بدن پر جو پسینہ آیا بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرے تھے لیکن نامِ سرکار سے ، ساحل پہ سفینہ آیا جس نے تھاما ہے شہِ کون و مکاں کا دامن اس کے ہاتھوں میں […]

حضور آپ کی سیرت کو جب امام کیا

تو دل میں آپ کی الفت نے بھی قیام کیا ملی ہے آپ کی چوکھٹ کی نوکری جس کو اسے شہانِ زمانہ نے بھی سلام کیا گئے تھے طور پہ موسیٰ کلام کی خاطر بلا کے آپ کو قوسین پر کلام کیا رہے جو آپ کے دشمن حضور مکّہ میں انہی کے واسطے اعلانِ عفو […]

دلِ مضطر میں طیبہ کی بسی ہے آرزو اب تک

اسی امید میں رقصاں رگوں میں ہے لہو اب تک فرامینِ محمد ہیں ہدایت سیدھے رستے کی ہے صدیوں بعد بھی جاری انہی پر گفتگو اب تک عمل اپنا تو لایا تھا تباہی کے دہانے پر کسی کے فیض نے رکھا ہے مجھ کو سرخرو اب تک گزر ہوتا تھا جن گلیوں سے سرکارِ مدینہ […]