میرا وردِ زباں ہے ترا نام بس

میری تسکینِ جاں ہے ترا نام بس زندگی کی کڑکتی ہوئی دھوپ میں سر پہ سایہ کناں ہے ترا نام بس من کی ویران وادی پہ میری شہا ہر گھڑی گُلفشاں ہے ترا نام بس رہ سے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لئے منزلوں کا نشاں ہے ترا نام بس رنج و آلام میں اے مرے […]

عجب روح پرور فضائے مدینہ

ہے کتنی مُعطّر ہوائے مدینہ کہ سانسیں بھی اپنی مہکنے لگی ہیں چلی آج شاید ہوائے مدینہ اسے دھوپ غم کی ستائے تو کیسے تنی جس کے سر پر رِدائے مدینہ وہی مثلِ مہتاب چمکے جہاں میں کرے جن کو روشن ضیائے مدینہ زمانے کی خوشیاں انہی کا مُقدّر کہ دامن میں جن کو چھپائے […]

حبیبِ ربِ کریم آقا! حروفِ قرآن کہہ رہے ہیں

ہے خُلق تیرا عظیم آقا! حروفِ قرآن کہہ رہے ہیں ہے اہلِ ایمان کا مُقدّر اے میرے آقا یہ تیری رحمت رؤوف ہے تو رحیم آقا! حروفِ قرآن کہہ رہے ہیں ہمارے آقا تو خود بھی کامل ،حیاتِ اطہر بھی ہے مکمل گواہ ربِ عظیم آقا !حروفِ قرآن کہہ رہے ہیں تُو ہے مُزمّل تو […]

میں کہ ناقص ،کس طرح سے تیری مدحت کر سکوں

بے ہنر ہوں میرے آقا! کیسے جرأت کر سکوں پھول نعتوں کے چنے ہیں عمر بھر اس آس پر قبر میں سرکار آئیں، پیشِ خدمت کر سکوں رات دن ان کا تصور ہر گھڑی ان کا خیال کاش میں اپنے تخیل کو عبارت کر سکوں حشر میں کیجے شفاعت بندۂ ناچیز کی یوں لوائے حمد […]

لوحِ دل پر ہے لکھا اک نام تیرا اور بس

لب پہ ہے صبح و مسا اِک نام تیرا اور بس کیا غرض تیرے بھکاری کو شہانِ دہر سے اس کو ہے کافی شہا !اک نام تیرا اور بس اپنی ہر امید کا ہے مرکز و محور یہی من میں ایسا رچ گیا اک نام تیرا اور بس میرے آقا! چار سُو چھائی ہے شب […]

کوئی خواہش ، کبھی احقر سے جو پوچھا جائے

بس غلاموں میں ترے نام پکارا جائے بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرا ہوں آقا! اب تو عاصی کو بھی ساحل پہ اتارا جائے حسنِ فردا ہے یقینی بہ طفیلِ شافع پھر بھی لازم ہے کہ امروز سنوارا جائے ان کی الفت ہے جو ایمان کی بنیاد تو پھر عشقِ احمد سے ہی ایماں کو […]

انوار سے سَجا ہُوا ایوانِ نعت ہے

مِدحت مِرے حضور کی عرفانِ نعت ہے طیبہ کی ہر گلی میں ہے مہکار اس لئے ہر گام پر کِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے قرآنِ پاک ذکر ہے خُلقِ عظیم کا اس كکا ہر ایک لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے ہر شعبۂ حیات نے پائی ہے روشنی ’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘ ذکرِ […]

ہونٹوں پہ ہمیشہ سے ہیں تذکارِ مدینہ

ہوتی ہے فزوں خواہشِ دیدارِ مدینہ ہوں دُور پہ ملتے ہیں، وہ لمحاتِ حضوری رہتے ہیں تصور میں جو سرکارِ مدینہ آتی ہیں مجھے یاد مدینے کی بہاریں آنکھوں میں سمو لایا تھا انوارِ مدینہ خوشبو ہے وہ عنبر میں نہ مشکِ خُتن میں جس سے کہ مہکتا ہے وہ دربارِ مدینہ ایمان بھی آخر […]

دنیا میں جن کے نُور کی چھائی ہے روشنی

آنکھوں نے ان کے نُور سے پائی ہے روشنی غارِ حرا سے نُور کی پھوٹی ہے جو کرن ظلمت سے دُور سب کو وہ لائی ہے روشنی دنیا و آخرت میں وہی سرخرو ہوئے جس نے بھی زندگی میں کمائی ہے روشنی بطحا کے آسمان پہ چمکا عرب کا چاند ہر سو اسی قمر کی […]

حاصل نہیں جو آگہی تو علم و فن ہے کیا

ذکرِ نبی اگر نہیں مشقِ سخن ہے کیا سرکار دو جہاں کے پسینے کے سامنے عطر و گلاب و عنبر و مشکِ ختن ہے کیا حسنِ نبی کا فیض ہے گلشن کی رونقیں اس کے بغیر نکہتِ سر و سمن ہے کیا مجلس ہے خیر سے تہی ذکرِ نبی بنا ان کی نہیں ہے گفتگو […]