یا رسول اللہ تیرے در کی فضاؤں کو سلام

گنبد خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کو سلام والہانہ جو طوافِ روضۂ اقدس کرے مست و بے خود وجد میں آتی ہواؤں کو سلام جو مدینے کی گلی کوچوں میں دیتے ہیں صدا تا قیامت ان فقیروں اور گداؤں کو سلام مانگتے ہیں جو وہاں شاہ و گدا بے امتیاز دل کی ہر دھڑکن میں […]

یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک

یا حبیب سلام علیک صلواۃ اللہ علیک جان کر کافی سہارا لے لیا ہے در تمھارا خلق کے وارث خدارا لو سلام اب تو ہمارا یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک آپ شاہِ انس و جاں ہو وارث کون و مکاں ہو رہنمائے دو جہاں ہو پیشوائے مرسلاں ہو یا نبی سلام علیک […]

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام صاحبِ رجعتِ شمس و شق القمر نائبِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی ان بھنوؤں کی لطافت پہ لاکھوں سلام جس طرف اُٹھ گئی دم میں دم آگیا اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں ایسے […]

زائرِ کوئے جناں آہستہ چل

دیکھ آیا ہے کہاں آہستہ چل جیسے جی چاہے جہاں میں گھوم پھر یہ مدینہ ہے یہاں آہستہ چل بارگاہِ ناز میں آہستہ بول ہو نہ سب کچھ رائیگاں آہستہ چل نقش پائے سرورِ کونین کی ہر طرف ہے کہکشاں آہستہ چل در پہ آیا ہوں بڑی مدّت کے بعد اے میری عمرِ رواں آہستہ […]

سرکار خطا کار ہوں رحمت کی نظر ہو

بخشش کا طلبگار ہوں رحمت کی نظر ہو ہر لمحہ تصوّر میں ہے سرکارِ مدینہ میں حاضرِ دربار ہوں رحمت کی نظر ہو فرقت میں شہا دل کو میرے چین نہیں ہے میں طالبِ دیدار ہوں رحمت کی نظر ہو آجائے کسی روز تو طیبہ سے بُلاوا ہر لمحہ میں تیار ہوں رحمت کی نظر […]

حضور میری تو ساری بہار آپ سے ہے

میں بے قرار تھا میرا قرار آپ سے ہے میری تو ہستی ہی کیا ہے میرے غریب نواز جو مل رہا ہے مجھے سارا پیار آپ سے ہے کہاں وہ ارضِ مدینہ کہاں میری ہستی یہ حاضری کا سبب بار بار آپ سے ہے سیاہ کار ہوں آقا بڑی ندامت ہے قسم خدا کی یہ […]

کھویا کھویا ہے دل ، ہونٹ چپ ، آنکھ نم ، ہیں مواجہ پہ ہم

کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم روبرو ان کے لایا ہے ان کا کرم، ہیں مواجہ پہ ہم لمحے لمحے پہ آیات کا نور نعت کا نور ہے نور افشاں درودی فضا دم بہ دم، ہیں مواجہ پہ ہم ایک کونے میں ہیں، سر جھکائے ہوئے، منہ چھپائے ہوئے […]

سائے میں تمھارے ہیں قسمت یہ ہماری ہے

قربان دل و جاں ہیں کیا شان تمھاری ہے کیا پیش کروں تم کو کیا چیز ہماری ہے یہ دل بھی تمھارا ہے یہ جاں بھی تمھاری ہے نقشہ ترا دلکش ہے صورت تری پیاری ہے جس نے تمہیں دیکھا ہے سو جان سے واری ہے گو لاکھ بُرے ہیں ہم کہلاتے تمہارے ہیں اک […]

شہرِ نبی کے سامنے آہستہ بولیے

دھیرے سے بات کیجیے آہستہ بولیے اُن کی گلی میں دیکھ کر رکھیے ذرا قدم خود کو بہت سنبھالیے آہستہ بولیے ان سے کبھی نہ کیجیے اپنی صدا بلند پیشِ نبی جو آیئے آہستہ بولیے شہرِ نبی ہے شہرِ ادب کان دھر کے دیکھ کہتے ہیں اس کے رستے آہستہ بولیے ہر اک سے کیجیے […]

لَو مدینے کی تجلّی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلعِ انوار بنائے ہوئے ہیں کشتیاں اپنی کنارے سے لگائے ہوئے ہیں کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں اک جھلک آج دکھا گنبدِ خضرا کے مکیں کچھ بھی ہے دور سے […]