رکھتے ہیں صرف اتنا نشاں ہم فقیر لوگ

ذکرِ نبی جہاں ہے وہاں ہم فقیر لوگ ان کا کرم ہے ہم کو مدینے بُلا لیا ورنہ کہاں مدینہ کہاں ہم فقیر لوگ آقا کی رحمتوں سے برابر ہیں فیض یاب جبریل آسماں پہ یہاں ہم فقیر لوگ لیتے ہی نام ان کا مقدّر سنور گئے پہنچے ہیں پھر کہاں سے کہاں ہم فقیر […]

تسکینِ قلب و جان کا سامان ہو گیا

طیبہ مری حیات کا عنوان ہو گیا انسان تھا عظیم مگر اس قدر نہ تھا جتنا عظیم آپ سے انسان ہو گیا جو کچھ کہا ہے آپ نے اے فخرِ کائنات وہ مری جان ہو گیا ایمان ہو گیا سلطانِ کائنات کے روضے کے سائے میں جو بھی فقیر آ گیا سلطان ہو گیا آنکھوں […]

مُفلسِ زندگی، اب نہ سمجھے کوئی، مجھ کو عشقِ نبی، اِس قدر مِل گیا

جگمگائے نہ کیوں، میرا عکسِ دَروں، ایک پتھر کو، آئینہ گر مِل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں ُکھلے، اُس کی جانب ہی دروازۂ جاں ُکھلے جانے عمرِ رواں، لے کے جاتی کہاں، خیر سے مجھ کو خیرالبشر مِل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار کی، اور مِری حیثیت ایک پرکار کی اُس کی […]

قطرہ مانگے جو کوئی تو اسے دریا دے دے

مجھ کو کچھ اور نہ دے اپنی تمنّا دے دے وہ جو آسودگی چاہیں انہیں آسودہ کر بے قراری کی لطافت مجھے تنہا دے دے میں اس اعزاز کے لائق تو نہیں ہوں لیکن مجھ کو ہمسائیگی گنبدِ خضریٰ دے دے غم تو اس دور کی تقدیر میں لکھے ہیں بہت مجھ کو ہر غم […]

کوئی ان کے بعد نبی ہوا نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا نہیں ان کے بعد کوئی نہیں کوئی ایسی ذات ہمہ صفت کوئی ایسا نور ہمہ جہت کوئی مصطفی کوئی مجتبیٰ نہیں ان کے بعد کوئی نہیں کسی ایسی ذات کا نام لو جو امیں بھی ہو جو اماں بھی ہو ہے مرے یقین کا فیصلہ نہیں ان […]

لب پر ہر دم نام نبی ہے میرے، شام سویرے

جگمگ جگمگ ان کی عطا سے میرے، شام سویرے در سے ہمیں نہ ان کے اٹھاؤ، طالب جنت، جنت جاؤ ہم تو لگائیں ان کی گلی کے پھیرے، شام سویرے آ بھی رہے ہیں جا بھی رہے ہیں جو مانگیں وہ پا بھی رہے ہیں ان کے در سے ہم سے گدا بہتیرے، شام سویرے […]

یا محمد نوُرِ مجسّم یا حبیبی یا مولائی

تصویرِ کمالِ محبت تنویرِ جمالِ خدائی تیرا وصف بیاں ہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی اس گردِ سفر میں گم ہے جبریلِ امیں کی رسائی تیری ایک نظر کے طالب تیرے ایک سخن پر قرباں یہ سب تیرے دیوانے یہ سب تیرے شیدائی یہ رنگِ بہارِ گلشن یہ ُگل اور ُگل کا جوبن […]

نوری محفل پہ چادر تنی نور کی نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے

چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں کون جلوہ نما آج کی رات ہے عرش پر دھوم ہے فرش پر دھوم ہے ،ہے وہ بدبخت جو آج محروم ہے پھر یہ آئے گی شب کس کو معلوم ہے ہم پہ لطف خدا آج کی رات ہے مومنو! آج گنجِ سخا لُوٹ لو ‘ لُوٹ لو […]

مری زندگی مری آبرو یہ عطائے یادِ رسول ہے

جو یہ درد ہے تو قرارِ جاں ہے اگر یہ زخم تو پھول ہے جو تری نگاہ میں آگیا وہ بڑی پناہ میں آ گیا ترے واسطے سے ہے مطمئن ترے واسطے ہی ملول ہے مرا سوز بھی مرا ساز بھی مرا دل بھی دل کا گداز بھی مری چشمِ تر کی بہار ہے مجھے […]

جو عشقِ نبی کے جلوؤں کو سینوں میں بسایا کرتے ہیں

اللہ کی رحمت کے بادل ان لوگوں پہ سایا کرتے ہیں جب اپنے غلاموں کی آقا تقدیر بنایا کرتے ہیں جنت کی سند دینے کے لیے روضے پہ بُلایا کرتے ہیں مخلوق کی بگڑی بنتی ہے خالق کو بھی پیار آجاتا ہے جب بہرِ دعا محبوبِ خدا ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے ہیں گردابِ بلا میں […]