رکھتے ہیں صرف اتنا نشاں ہم فقیر لوگ
ذکرِ نبی جہاں ہے وہاں ہم فقیر لوگ ان کا کرم ہے ہم کو مدینے بُلا لیا ورنہ کہاں مدینہ کہاں ہم فقیر لوگ آقا کی رحمتوں سے برابر ہیں فیض یاب جبریل آسماں پہ یہاں ہم فقیر لوگ لیتے ہی نام ان کا مقدّر سنور گئے پہنچے ہیں پھر کہاں سے کہاں ہم فقیر […]