روئے بدرالدجیٰ دیکھتے رہ گئے

چہرئہ والضحیٰ دیکھتے رہ گئے حسن خیرالوریٰ میں خدا کی قسم ہم جمال خدا دیکھتے رہ گئے چاند دو ٹکڑے ہو کر تصدّق ہوا دشمنِ مصطفی دیکھتے رہ گئے رک کے سدرہ کی منزل پہ روح الامیں رفعتِ مصطفی دیکھتے رہ گئے ہم گنہگار پہنچے درِ پاک پر زاہد و پارسا دیکھتے رہ گئے در […]

فضل ربُ العُلیٰ اور کیا چاہیے

مل گئے مصطفی اور کیا چاہیے دامن مصطفی جس کے ہاتھوں میں ہو اس کو روز جزا اور کیا چاہیے گنبد سبز خوابوں میں آنے لگا حاضری کا صلہ اور کیا چاہیے بھیک کے ساتھ ہی ان کے دربار سے مل رہی ہے دعا اور کیا چاہیے یہ جبیں اور ریاض الجناں کی زمیں اب […]

ان کو دل میں بسا لیا ہم نے

دل مدینہ بنا لیا ہم نے ان کے دامن سے ہو کے وابستہ سب سے دامن چُھڑا لیا ہم نے مل گئے وہ تو پھر کمی کیا ہے دونوں عالم کو پا لیا ہم نے تاجور بھی جہاں پہ سائل ہیں ایسا دربار پا لیا ہم نے نقش پائے حضورِ انور کو اپنا کعبہ بنا […]

میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

تاجدار حرم کے کرم سے آگیا زندگی کا قرینہ دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہ دو عالم جب سے مہماں ہوئے ہیں وہ دل میں دل مرا بن گیا ہے مدینہ میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمد قابلِ فخر ہے موت میری قابل رشک ہے میرا جینا […]

میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھالوں محمد کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے

اسی بے خودی میں کہیں کھو نہ جاؤں تڑپ کملی والے کی تڑپا رہی ہے دو عالم کا داتا مرے سامنے ہے کہ کعبے کا کعبہ مرے سامنے ہے ادا کیوں نہ فرضِ محبت کروں میںخدا کی خدائی جھکی جا رہی ہے گلے میں ہیں زلفیں تو نیچی نگاہیں ، نظر چومتی ہے مدینے کی […]

ٹھہری ہوئی آنکھوں میں جدائی کی گھڑی ہے

شب آخری طیبہ کی مرے سر پہ کھڑی ہے اِک ساعتِ بیدار ہے مقسوم نظر کا دوری میں تڑپنے کے لیے عمر پڑی ہے اِک لمحہ پراں ہے میسر دمِ رُخصت فہرست دُعاؤں کی سلاموں کی بڑی ہے کیا عرض و گزارش ہو کہ ملتے نہیں الفاظ؟ دُنیائے تمنّا ہے! جو ہونٹوں پر اَڑی ہے! […]

درِ خیرالورا ہے اور میں ہوں

میرے غم کی دوا ہے اور میں ہوں مُرادوں کو ملی ہے منزلِ شوق دُعاؤں کا صلہ ہے اور میں ہوں خوشا قسمت کہ محرابُ النّبی میں کسی کا نقشِ پا ہے اور میں ہوں درِ اقدس کے آگے دل ہے لرزاں کہ اُن کا سامنا ہے اور میں ہوں ہوا ہوں بابِ رحمت سے […]

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے

جو یادِ مصطفی سے دل کو بہلایا نہیں کرتے زباں پر شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے یہ دربار محمد ہے یہاں اپنوں کا کیا کہنا یہاں سے ہاتھ خالی غیر بھی جایا نہیں کرتے محمد مصطفی کے باغ کے سب پھُول ایسے ہیں جو […]

خوشبو ہے دو عالم میں تری اے ُگلِ چیدہ

خوشبو ہے دو عالم میں تری اے گلِ چیدہ کس منہ سے بیاں ہو ترے اوصافِ حمیدہ تجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ اے ہادیٔ برحق! تری ہر بات ہے سچی دیدہ سے بھی بڑھ کر ہے تیرے لب کا شنیدہ اے رحمتِ عالم! […]

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں فرشتو پوچھتے کیا ہو کہ کس کا بندہ ہوں لو آؤ دیکھ لو تصویرِ یار آنکھوں میں یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھ میں نہ آجائے کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے کہ بس چکے ہیں مدینے […]