کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دُنیا بھول گیا

یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے دل ذوقِ تماشہ بھول گیا پھر روح کو اذنِ رقص ملا، خوابیدہ جنوں بیدار ہوا تلوؤں کا تقاضہ یاد رہا نظروں کا تقاضہ بھول گیا احساس کے پردے لہرائے ایماں کی حرارت تیز ہوئی سجدوں کی تڑپ اللہ اللہ سر اپنا سودا بھول گیا پہنچا جو حرم کی چوکھٹ […]

شرمندہ سا لرزیدہ سا میں صحنِ حرم میں آیا ہوں

لے کر اک بوجھ گناہوں کا، میں صحنِ حرم میں آیا ہوں گر تو نہ بخشے گا مجھ کو، پھر کیسے بخشش پاؤں گا کر کے اُمیدیں وابستہ، میں صحنِ حرم میں آیا ہوں اِک ٹوٹی ہوئی سی ڈالی ہوں، میں تیرے کرم کا سوالی ہوں دل کو تھامے گرتا پڑتا، میں صحنِ حرم میں […]

حاضر ہیں ترے دربار میں ہم اللہ کرم اللہ کرم

دیتی ہے صدا یہ چشمِ نم اللہ کرم اللہ کرم ہیبت سے ہر اک گردن خم ہے ہر آنکھ ندامت سے نم ہے ہر چہرے پہ ہے اشکوں سے رقم اللہ کرم اللہ کرم جن لوگوں پہ ہے انعام ترا ان لوگوں میں لکھ دے نام مرا محشر میں مرا رہ جائے بھرم اللہ کرم […]

کعبے کی رونق کعبے کا منظر اللہُ اکبر اللہُ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر اللہُ اکبر اللہُ اکبر حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں بس اک صدا آرہی ہے برابر اللہُ اکبر اللہُ اکبر ترے حرم کی کیا بات مولیٰ ترے کرم کی کیا بات مولیٰ تا عمر کر دے آنا مقدّر اللہُ اکبر اللہُ اکبر مانگی ہیں […]

اے وجہِ تب و تابِ جہاں روحِ دو عالم

اے کاشفِ اسرارِ نہاں صلِ وسَلَم اے صاحبِ الطاف و کرم والیٔ کونین بھیگے ہیں کئی بار تری یاد میں دو نین بہتی ہے رگوں میں تری چوکھٹ کی غلامی سینے میں دھڑکتا ہے ترا اسمِ گرامی دے عطرِ مضامینِ منور مجھے شاہا لکھنا ہے محبت سے ترا نور سراپا دستار کے ہر پیچ میں […]

رفرفِ فکر جو شاہ کی چوکھٹ پر جاتا ہے

در پر دید کی پیاسی آنکھیں دھر جاتا ہے موت کو سچی مات سے واقف کر جاتا ہے آقا کی ناموس پہ جس کا سر جاتا ہے گردِ نعالِ شاہِ امم کا تحفہ پا کر کاہکشاں کا چہرہ خوب نکھر جاتا ہے سخت کٹھن ہے دو دھاری تلوار پہ چلنا قلم سے لرزه اور نہ […]

تھم گیا عالمِ دنیا کا چلن پل بھر میں

عازمِ عرش ہوئے شاہِ زمن پل بھر میں جلوۂ شاہ میسر ہو لحد میں جس دم آنکھ بن جائے مرا سارا بدن پل بھر میں وہ بھی اوصاف محمد کے بیاں کرتا ہے جس نے تخلیق کئے کوہ و دمن پل بھر میں جیسے ہی نعت مری نوکِ زباں پر آئی ہو گئی رحمتِ حق […]

ربیعِ اول میں موسموں کے نصاب اترے

ترستے صحراؤں میں شگفتہ گلاب اترے نعالِ شاہِ امم کا لمسِ منیر پانے حرا کی آغوش میں کئی ماہتاب اترے ہماری آنکھوں میں یادِ بطحا کا نور چمکا کنارِ مژگاں برسنے والے سحاب اترے ہزاروں قدسی زمیں پہ بیٹھے تھے پر بچھائے رکابِ قصویٰ سے جس گھڑی آں جناب اترے جھکایا سر میرے خام خامہ […]

چراغِ نعت سے تاریکیاں تنویر کرتا ہوں

حریمِ دل سجانے کی یہی تدبیر کرتا ہوں فرشتے بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں، جس لمحے شہِ ہر دو سرا کا ذکرِ پر تاثیر کرتا ہوں خوشی سے جھومنے لگتے ہیں قرطاس و قلم میرے میں جب اسمِ شہِ کون و مکاں تحریر کرتا ہوں تخیل میں جبینِ شوق رکھ کر ان کی […]

عظیم فردِ پنج تن حسن حسن

وہ نور بار ضو فگن حسن حسن وہ باغِ مصطفیٰ کی کشتِ نور میں مہک رہے ہیں گلبدن حسن حسن کریم ہیں نواسۂ کریم ہیں کرم کا بحرِ موج زن حسن حسن وہ تاب دار عکسِ صورتِ نبی مرے نبی کا بانکپن حسن حسن سکونِ قلبِ بو تراب و فاطمہ قرارِ رونقِ زمن حسن حسن […]