حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبز گنبد زمیں کی گود […]

مشامِ جان میں مہکا خیالِ سیدِ عالم

بنا وجہِ قرارِ جاں وصالِ سیدِ عالم زمانہ جب تمنائے جناں میں سر بہ سجدہ تھا مرے ہونٹوں پہ رقصاں تھا سوالِ سیدِ عالم تمثل سے ورا ہیں گیسوئے اطہر سے ناخن تک نہ ممکن تھی نہ ممکن ہے مثالِ سیدِ عالم ہم ان کے عارض و لب کی ثنا میں کھوئے رہتے ہیں ہمیں […]

مہبطِ نور میں ہے نور سے ڈھالی جالی

دونوں عالم میں نہیں ایسی مثالی جالی ہم کہاں دیدِ شہِ کون و مکاں کے قابل ہم نے پلکوں کے کناروں پہ سجالی جالی جب سے دیکھا ہے کرم بار سنہری منظر دھڑکنیں ورد کئے جاتی ہیں جالی جالی قلبِ مغمُوم کو مسرُور کیا ٹھنڈک نے میں نے جب خواب میں سینے سے لگالی جالی […]

وُجُودِ شاعرِ مِدحت پہ خوف ہے طاری

صراطِ نعت ہے تلوار ایک دو دھاری حرُوفِ نعت میں ہَوں کیفیات بھی شامل یہاں عرُوض کی کافی نہیں ہے فن کاری گُھلی ہے رُوح میں سرکار آپ کی چاہت وریدِ جاں میں رواں ہے بہ شکلِ سر شاری حُضُور! بھیجا ہے جاؤوک کہہ کے مالک نے پڑا ہے آپ کی چوکھٹ پہ ایک اقراری […]

خواب، خواہش، طلب، جستجُو نعت ہے

فکر و فن، زندگی، شوق، خُو نعت ہے دست بستہ مؤدب ہے میرا ہنر طاقِ ادراک میں مشکبُو نعت ہے ہے یہی وجہِ تسکینِ قلب و نظر آشتی، روشنی، رنگ و بُو نعت ہے کوئی صنفِ سخن راس آئے ہی کیوں ہر سخن گستری، گُفتگُو نعت ہے اوجِ حرفِ سخن ہے رہینِ ثنا نطق اور […]

شاہِ خوباں کی جھلک مانگنے والی آنکھیں

ان کی دہلیز پہ رکھ دی ہیں سوالی آنکھیں بھیک بٹتی ہوئی دیکھی تھی سرِ بزمِ کرم تشنۂ دید تھے کشکول بنالی آنکھیں ایسی آنکھوں کو ملائک نے دیئے ہیں بوسے دیکھ لیتی ہیں جو سرکار کی جالی آنکھیں ایک دیدار کی حسرت میں ابھی روشن ہیں رو رو بے نور نہ ہو جائیں غزالی […]

بہ حکمِ رب کریں گے مدحتِ سرکار جنت میں

سنیں گے بر سرِ منبر شہِ ابرار جنت میں اگر ہو لب کشائی کی اجازت مرحمت ہم کو کریں گے یا رسول اللہ کی تکرار جنت میں عمر بائیں طرف بیٹھے ہوں پہلوئے لطافت میں اگر دائیں طرف بیٹھے ہوں یارِ غار جنت میں وہیں عثمان ذوالنورین بھی تشریف فرما ہوں وہیں جلوہ فگن ہوں […]

اُن کی یاد آئی تو بھر آئے سحابِ مژگاں

کُھل کے برسا ہے مرے قلب پہ آبِ مژگاں ایک دیدار کی اُمید سے نکہت لے کر کِھل سے جاتے ہیں سرِ شام گُلابِ مژگاں کوئے انوار سے اک ناقہ سوار آئیں گے بس اُنہی کے لئے وا رہتا ہے بابِ مژگاں اک تصوّر ہے جسے اور کوئی دیکھ نہ لے اُس پہ رکھتا ہوں […]

بھر دیئے گئے کاسے، بے بہا عطاؤں سے

پوچھنا مدینے سے، لوٹتے گداؤں سے ان کے عشق کا امرت، پی لیا تھا گھٹی میں ان کا نام سیکھا تھا، ہم نے اپنی ماؤں سے سرورِ امم مجھ کو، اذنِ لب کشائی دیں حرفِ نعت لایا ہوں، اپنے ساتھ گاؤں سے اے حبیبِ ما اب تو، مرہمِ زیارت دیں مارِ ہجر ڈستا ہے، مجھ […]

دوائے صدمۂ ہجراں ندارم

بجز تو یا نبی پرساں ندارم رگِ جاں مشکبو از اسمِ احمد عبیر و عنبر و ریحاں ندارم یکے فرمودۂ جبریلِ صادق مثالِ سرورِ خوباں ندارم میانِ حشر بہرِ رو رعایت بجز مدحِ نبی ساماں ندارم عطائے شاہِ بطحا روز افزوں اگرچہ وسعتِ داماں ندارم نظر بر حالِ ما اے ماحیٔ غم برائے دردِ دل […]