حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے
یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبز گنبد زمیں کی گود […]