سوچتا رہتا ہوں اے کاش کچھ ایسا لکھوں

سب کو مقبول وہ فرما لیں میں جتنا لکھوں ان کے الطاف و کرم کو لکھوں فضل مولیٰ جسم بے سایہ کو رحمت کا میں سایہ لکھوں جس سے سیراب ہوئے خشک زمیں کے خطے ان کو وہ فیض کا بہتا ہوا دریا لکھوں کوئی فہرست مرتب جو کریموں کی کروں اس کے ہر خانے […]

کرم منظر، گدا پرور مرے سرکار کی چوکھٹ

نہ دیکھے قد، نہ دیکھے سر مرے سرکار کی چوکھٹ مسیحاؤں کی چارہ گر مرے سرکار کی چوکھٹ کرے اندھوں کو دیدہ ور مرے سرکار کی چوکھٹ وہ اپنے وقت کا دارا ہو، یا کوئی سکندر ہو جھکا لیتی ہے سب کے سر مرے سرکار کی چوکھٹ فراز چرخ کا عرش علا کا باغ جنت […]

جو انداز ثنا میرا جدا معلوم ہوتا ہے

صریحاً صدقۂ خیر الوریٰ معلوم ہوتا ہے نبی کے شہر کی تابندگی کا حال یہ دیکھا وہاں کا ذرہ ذرہ طور کا معلوم ہوتا ہے زبان رنگ و بو سے گلشن ہستی کا اک اک گل درود پاک ہی پڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے چھپائے ہے فلک سینے میں کتنے راز سر بستہ مجھے تو […]

خیرالبشر ہو، فخر رسولاں تمہی تو ہو

القاب میں بھی سب میں نمایاں تمہی تو ہو واضح نشان منزل عرفاں تمہی تو ہو راہ ھدیٰ کی شمع فروزاں تمہی تو ہو تم سے اگر نہ مانگیں تو کس سے کریں طلب ملک خدا کے ناظم و نگراں تمہی تو ہو گلزار رنگ و بو میں تمہی سے نکھار ہے جان بہار، شان […]

ہزاروں ہوں درود اُن پر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر

وہ ہیں سلطانِ بحر و بر، ہزاروں ہوں سلام اُن پر اشارے سے قمر توڑیں، بُلائیں تو شجر دوڑیں گواہی جن کی دیں پتھر، ہزاروں ہوں سلام ان پر مدینے کے وہ بام و در، پکڑ کر اور جھکا کر سر کہیں ہم سب یہی مل کر، ہزاروں ہوں سلام ان پر جو رحمت کی […]

عقیدت کے محور، حسین ابنِ حیدر

شہیدوں کے رہبر، حسین ابنِ حیدر کریں دینِ حق کے لیے کربلا میں فِدا تَن بَہتَّر ، حسین ابنِ حیدر سواری کریں دوش پر مصطفی کے ہیں زہرا کے دلبر، حسین ابنِ حیدر یہ کہتے ہوئے آگئے حضرتِ حُر بنا دو مقدر، حسین ابنِ حیدر قیامت میں بھی آپ کا قربِ اقدس مجھے ہو میسر، […]

دینِ احمد کے لئے کنبہ لٹانے والے

چھوڑ کر گھر یہ ہیں کربل کو بسانے والے کہہ گئے ابنِ علی، سن لو یزیدو ! ہم ہیں ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکانے والے سب کچھ ان کا ہے، یہی مالکِ کوثر بھی ہیں نوکِ نیزہ پہ وہ قرآن سنانے والے آخرِ کار وہ خود صفحۂ ہستی سے مٹے بڑے آئے تھے […]

کربلا ہے نشاں شہادت کا

استعارہ وفا و جرأت کا سارا کنبہ نثارِ دیں کر کے حق ادا کر دیا امامت کا آ گئی پھر نمی سی آنکھوں میں آ گیا پھر مہینہ حرمت کا دل میں لہرا رہا ہے میرے علم آلِ اطہار کی محبت کا پنجتن کا غلام ہوں آصف خوف کیوں کر ہو پھر قیامت کا

جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے

اسے پھر کسی چیز کی کیا کمی ہے وہ شمس الضحیٰ ہیں وہ بدر الدجیٰ ہیں جو پھیلی ہے ہر سُو یہی روشنی ہے بہار اُن کے دم سے ہے ہر دم چمن میں اُنہی کی بدولت کھِلی ہر کَلی ہے نہ در اُن کے در سا کوئی ہے جہاں میں نہ اُن کی گلی […]