ذکرِ احمد اپنی عادت کیجئے

اس طرح اظہارِ الفت کیجئے چاہتے ہیں گر خُدا کی رحمتیں پیارے آقا سے محبت کیجئے اُن کی یادیں دل میں رکھئے ہر گھڑی اور یوں سامانِ راحت کیجئے دو جہاں میں سرخرو ہو جائیے ہر عمل پابندِ سنت کیجئے بول اٹھیں گے قبر میں منکر نکیر آگئے آقا زیارت کیجئے حشر میں ہو گی […]

فیض ہے سلطانِ ہر عالم کا جاری واہ وا

پا رہی خلقِ خدا ہے جس کو ساری واہ وا ہیں زمانے کے شہنشاہوں پہ بھاری واہ وا آستانِ نور کے ہیں جو بھکاری واہ وا یاد پیارے مصطفی کی پُر سکوں کرتی ہے اور دور کردیتی ہے دل کی بے قراری واہ وا مل گیا ہے آپ کا رحمت بھرا دامن ہمیں خوب نسبت […]

مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں

مرا بختِ رسا ہے اور میں ہوں تصور میں سنہری جالیاں ہیں عطائے مصطفی ہے اور میں ہوں پرِ روح الامیں لگ جائیں مجھ کو بلاوا آپ کا ہے اور میں ہوں جھکا ہے سر نبی کے آستاں پر یہی صبح و مسا ہے اور میں ہوں عبادت ہی عبادت ہو رہی ہے شہِ دیں […]

بخشی گئی جو نعمتِ مدح و ثنا مجھے

’’شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے‘‘ حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی اغنیا مجھے اتنا مرے نبی نے کیا ہے عطا مجھے رکھتا ہوں دل میں خواہشِ دیدارِ شہرِ نور لے چل درِ حضور پہ بادِ صبا مجھے مانگا ہے میںنے ان کے وسیلے سے جب کبھی رب نے دیا ہمیشہ طلب سے سَوا […]

نعت کیا لکھوں شہِ ابرار کی

خود خدا مدحت کرے سرکار کی اُس پہ بارش کیوں نہ ہو انوار کی ہو گئی جس پر نظر سرکار کی کب ہے خواہش درہم و دینار کی؟ بھیک بس مل جائے اُن کی پیار کی ذرۂ خاکِ شفا کے سامنے کیا ہے وقعت لعل کے انبار کی؟ خارِ طیبہ ہے مرے پیشِ نظر بات […]

کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب

مجھ کو فقط ہے رحمتِ سرکار کی طلب اب تو حضور خواب میں تشریف لائیے کب سے ہے مجھ کو آپ کے دیدار کی طلب صحرائے طیبہ جس نے بھی دیکھا ہے ایک بار اس کو ہوئی نہ پھر گل و گلزار کی طلب دونوں جہاں میں راحتیں پانے کے واسطے رکھتا ہوں اُن کے […]

مرے سرکار کا دربارِ پُر انوار کیا کہنا

برستی ہے جہاں پر رحمتِ غفار کیا کہنا سوالی بن کے آ جاؤ جو چاہو مانگ لو اُن سے کسی کو بھی تو وہ کرتے نہیں انکار کیا کہنا بتاتے غیب کی خبریں ہیں اُمت کو مِرے آقا خدا کے فضل سے ہیں واقفِ اسرار کیا کہنا وہی سارے جہاں میں نعمتیں تقسیم کرتے ہیں […]

ہیں حبیبِ خدا مدینے میں

سب کے مشکل کُشا مدینے میں خوش نصیبوں نے جا کے دیکھی ہے نور کی اِنتہا مدینے میں رات دن ہر گھڑی برستا ہے ابرِ جود و عطا مدینے میں وقت آئے کہ جا کے میں بھی کروں اُن کی مدح و ثنا مدینے میں اُن کے کوچے میں جا کے رہتے ہیں شاہ بن […]

کتنے عالی شان ہوئے

جو اُن کے مہمان ہوئے گرے جو ان کے قدموں میں سیرابِ عرفان ہوئے ذکرِ آقا سے حاصل راحت کے سامان ہوئے آپ پکارے اَنَا لَہَا جب اپنے انجان ہوئے کیا اُس کی تفصیل لکھیں؟ ہم پہ کیا احسان ہوئے اب تو آصف طیبہ میں جانے کے اِمکان ہوئے

دو عالم میں جو نور پھیلا ہُوا ہے

یہ مہرِ حرا سے اُجالا ہُوا ہے گدا پر کرم ان کا ایسا ہوا ہے نہ سہما کبھی اور نہ تنہا ہوا ہے برستی ہے رب کی سدا اُس پہ رحمت درِ مصطفی جس نے تھاما ہُوا ہے نہ بھائے گا اُن کو کوئی اور منظر مدینہ جن آنکھوں نے دیکھا ہُوا ہے نظر پڑ […]