کس قدر سرکار کی ہے پیاری پیاری گفتگو

عرش پہ رب نے بُلا کے آپ سے کی گفتگو چاہے دشمن جان کا تھا ہو گیا وہ آپ کا جس نے آقا آپ کی اک بار سن لی گفتگو اُس گھڑی بارانِ رحمت کی جھڑی محسوس کی جب کسی نے آپ کی رحمت کی چھیڑی گفتگو سوچتا ہوں کس قدر ہو گا وہ منظر […]

اپنی قسمت کو اَوج پر دیکھا

جس نے آقا کو اک نظر دیکھا ہجر میں آپ کے شہِ بطحا! آنکھ کو آنسوؤں سے تر دیکھا جو ہُوا اُن کے در سے وابستہ اُس کو دنیا میں معتبر دیکھا غیر کو بھی لگائیں سینے سے مہرباں اُن کو اِس قدر دیکھا اُن کی رحمت کا سایہ ہے ہر سو جا کے آصف […]

ہمیں دربار میں اپنے بُلائیں یا رسول اللہ

ہمارے دل کی یہ حسرت مٹائیں یا رسول اللہ ہمیں یہ اذن دے دیجئے کسی دن آکے روضے پر ہم آکر حالِ دِل اپنا سنائیں یا رسول اللہ یہی فریاد ہے تشریف لا کر خواب میں اک دن ہمارے بختِ خوابیدہ جگائیں یا رسول اللہ مراپژمردہ دل بھی پھول کی مانند کِھل اٹھے جو مل […]

دو جہاں میں مصطفی سا کون ہے؟ کوئی نہیں!

رب نے ان جیسا بنایا کون ہے؟ کوئی نہیں! میرے آقا میرے مولا ماسوائے آپ کے ہم غریبوں کا سہارا کون ہے؟ کوئی نہیں! جس طرح امت کی خاطر وہ رہے ہیں اشکبار اسطرح آنسو بہاتا کون ہے؟ کوئی نہیں! غیر بھی یہ مانتے ہیں جُز شہِ کونین کے لامکاں تک اور پہنچا کون ہے؟ […]

کیوں خدا کی نہ ہو اُس پہ رحمت سدا

جس کے دل میں ہے آقا کی چاہت سدا ہوں غلامِ شہنشاہِ کونین جب ناز کیوں نہ کرے مجھ پہ قسمت سدا؟ قبر میں بھی رہے حشر میں بھی رہے جیسے دنیا میں ہے ان سے نسبت سدا ہو بقیعِ مبارک میں مدفن مرا یوں میسر رہے ان کی قربت سدا ہے دعا سانس آصف […]

مجھ پہ بھی چشمِ کرم ماہِ رسالت کرنا

التجا ہے یہ مری اتنی عنایت کرنا کاش! میرے بھی مقدر میں یہی لکھا ہو رات دن آپ کے روضے کی زیار ت کرنا مجھ کو خوش بخت اسی واسطے سب کہتے ہیں کہ مرا عشق ہے سرکار کی مدحت کرنا ہیں گنہ گارو خطا کار مگر آ پ کے ہیں ہم سیہ کاروں کی […]

ہے مرکز مدینہ ہے محور مدینہ

سبھی عاشقوں کا ہے دلبر مدینہ میرے دل کی دنیا بدل سی گئی ہے ہُوا نقش جب سے ہے دل پر مدینہ مری کشتیٔ شوق اس میں رواں ہے کہ ہے نُور کا اک سمندر مدینہ کسی کا کوئی اور اگر ہے تو ہو گا مِرا مدعا ہے برابر مدینہ میں خود موت کا خیر […]

ہیں ارمان دل میں ہمارے ہزاروں

مدینے کے دیکھیں نظارے ہزاروں مجھے ایک ان کا سہارا ہے کافی کروں کیا میں لے کے سہارے ہزاروں؟ لگاتے نہ جو آپ سینے سے آقا! کہاں جاتے پھر غم کے مارے ہزاروں بھنور میں لیا ان کا جب نامِ نامی وہیں بن گئے پھر کنارے ہزاروں لگے ان کے نعلین سے جو بھی ذرے […]

کیوں مجھ پہ نہ رحمت کی ہو برسات مسلسل

پڑھتا ہوں درود اُن پہ میں دن رات مسلسل اک بار پکارا تھا محبت سے محمد اُس وقت سے ہیں مجھ پہ عنایات مسلسل جب ذکرِ شہِ والا سے لَو میں نے لگائی ہوتے گئے بہتر مرے حالات مسلسل طوفان کی موجیں ہوں کہ آندھی ہو بَلا کی تھامے ہوئے مجھ کو ہے وہ اِک […]

نبی علیہ السلام آئے

لیے خدا کا پیام آئے بہار کیوں نہ عروج پر ہو کہ انبیا کے امام آئے انہی کے دم سے جہاں ہیں روشن جو بن کے ماہِ تمام آئے وہی مبارک زباں ہے جس پر درود آئے سلام آئے انہی کی ہے ایک ذات ایسی جو دشمنوں کے بھی کام آئے یہی ہے دیکھا کہ […]