جو روشن حلیمہ کا گھر دیکھتے ہیں
بفیض شہ بحر و بر دیکھتے ہیں بشر کہنے والے بشر دیکھتے ہیں مگر ان کو ہم عرش پر دیکھتے ہیں ہیں بکھرے ہوئے سارے عالم میں جلوے جہاں تک ہے جن کی نظر دیکھتے ہیں شب و روز امت کی بخشش کی خاطر شہ دیں کی آنکھوں کو تر دیکھتے ہیں ہم اپنے تصور […]