یہ آرزو ہے اُجالا ڈگر ڈگر پہ رہے

ترا چراغ کرم طاق ہر نظر پہ رہے چلے جو قافلۂ شوق جانب طیبہ غبار بن کے مرا دل بھی رہ گذر پہ رہے خزاں کا دور نہ آئے کبھی گلستاں میں بہار مدحت سرکار ہر شجر پہ رہے فلک پہ مہر جہاں تاب ہو نہ ہو لیکن نشانِ داغ غم مصطفیٰ جگر پہ رہے […]

اے دل مدینہ آگیا باہر نکل کے آ

ممکن نہیں ہے آنا تو اشکوں میں ڈھل کے آ اے باد صبح ! گلشن ذکر رسول میں چہرے پہ رنگ عشق شہ دیں کے مل کے آ لغزش روا نہیں ہے یہاں، اے مرے جنوں! یہ شہر شاہ کون و مکاں ہے ، سنبھل کے آ میری جبیں بھی کرتی ہے مدت سے انتظار […]

اے خدائے ہر دوعالم بہر حسان رسول

میں بھی ہو جاؤں دل و جاں سے ثنا خوانِ رسول رحمت باری انہیں کے ساتھ رہتی ہے مدام دل سے ہو جاتے ہیں لوگو جو غلامانِ رسول کس طرح کوئی گھٹا سکتا ہے ان کی عظمتیں جب بڑھاتا ہے خدائے پاک خود شانِ رسول کاش مل جائے ہمیں بھی باریابی کا شرف کاش طیبہ […]

ہر اک سانس وقف ثنائے نبی ہے

مری زندگی اب مری زندگی ہے مرا دل بھی گنجینۂ آگہی ہے زباں پر فقط یا نبی یا نبی ہے مدینے کی گلیوں کو سوچا تھا میں نے ابھی تک مرے ذہن میں روشنی ہے نظر میں ہے نقش کف پائے آقا خود اب میری منزل مجھے ڈھونڈتی ہے رسولِ دوعالم کی ہے آمد آمد […]

بجز ان کے نہ آیا کوئی محبوب خدا بن کر

محمد مصطفیٰ ہو کر، امام الانبیا بن کر چلو چلتے ہیں سوئے شہر طیبہ بے نوا بن کر تمنا ہے کہ مانگیں بھیک آقا کے گدا بن کر مرادیں اپنی پاتے ہیں جنہیں آقا بلاتے ہیں سبھی پر رحمتیں آقا کی ہوتی ہیں عطا بن کر بحمد اللہ قسمت لے کر آئی ان کی چوکھٹ […]

کرم نبی کا چمک رہا ہے ہنوز ماہِ تمام جیسا

جہاں میں کوئی نہ آئے گا اب ہمارے خیرالانام جیسا زمانے بھر میں کسی کا ایسا ادب ہوا ہے نہ ہو سکے گا اک ایک ساعت کرے ہے میرے رسول کا احترام جیسا گداگرِ راہِ عام ہم ہیں ہماری کیا حیثیت ہے لوگو ! نبی کے در پر ہے تاجدارِ جہاں بھی ادنیٰ غلام جیسا […]

اگر دل میں یادِ مدینہ رہے گی

منور ترے دل کی دنیا رہے گی تمنا کرے گا جو ان کی گلی کی مہک دار بزم تمنا رہے گی جہاں کو ہمارے نبی کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے ہمیشہ رہے گی بڑھاتا ہے رب العلیٰ ان کی عظمت وہ اعلیٰ تھی ، اعلی ہے ، اعلیٰ رہے گی نبی کے غلاموں میں گنتی […]

بڑے ہی اوج پر قسمت مری ہے

نظر کے سامنے شہر نبی ہے میں دیوانہ ہوں کوئے مصطفیٰ کا مرے قدموں میں یوں دنیا پڑی ہے انہیں کی نعت سے مطلب ہے مجھ کو انہیں کا ذکر میری زندگی ہے دیارِ مصطفیٰ کہتے ہیں جس کو اجالوں کا سمندر وہ گلی ہے گدائے کوچۂ خیرالوریٰ ہوں مجھے حسرت سے شاہی دیکھتی ہے […]

ہو مجھ پہ کرم مالک و مختارِ مدینہ

اب پاس بلالو مجھے سرکارِ مدینہ تقدیر دکھادے مجھے سرکار کی چوکھٹ پلکوں سے بُہاروں در و دیوارِ مدینہ دل ہجر کا مارا تڑپ اٹھتا ہے وہیں پر ہوتی ہے جہاں بزم میں گفتارِ مدینہ اے شوق مرے مجھ کو دکھا وہ درِ رحمت رہتے ہیں جہاں سید ابرارِ مدینہ اے میرے طبیبو میں نہیں […]

نبی ملے تو خدا سے ملا درود شریف

مری حیات کا جز بن گیا درود شریف سماعتوں میں جہاں نام مصطفیٰ آیا ادب سے جھک کے پڑھا بارہا درود شریف چلی جو شہر مدینہ کی نرم نرم ہوا گلوں کی طرح مہکنے لگا درود شریف خیال گنبد خضریٰ کا آ گیا جس دم لبوں پہ آگیا بے ساختہ درود شریف پڑھا درود، نظر […]