آپ کے سر سجا ہے تاجِ کرم

سب کو رہتی ہے احتیاجِ کرم معدنِ جود ہیں تری گلیاں تیرے کوچے میں ہے رواجِ کرم خاکدانوں سے آسمانوں تک میرے محبوب کا ہے راجِ کرم آپ کے در سے یارسول اللہ مل رہا ہے مجھے اناجِ کرم بھائی بھائی بنے بڑے چھوٹے یوں مرتب ہوا سماجِ کرم بے کسوں بے نواؤں کے گھر […]

میرا دامانِ شوق تنگ ، صغیر

تیرے الطاف و عنایات کثیر مصدرِ کائنات اور غذا چند خرما ہیں صرف نانِ شعیر میں ہوں تشنہ جنم جنم کا شہا آپ جود و عطا کے ابرِ مطیر تیرے در کے غلام شاہِ جہاں سطوت و جاہ تیرے در کے فقیر تیرے کھدر پہ ناز کرتے ہیں ریشم و اطلس و لباسِ حریر تیرا […]

کرم محاسن وسیع تیرے

مقام رتبے رفیع تیرے نبی رسولوںؑ کا مقتدا تو نبی ہیں پیچھے جمیع تیرے خدا کی مرضی تو بس یہی ہے بنے رہیں ہم مطیع تیرے ہے تیری نسبت سے میری قیمت غلام سب ہیں وقیع تیرے پلک جھپکنے میں عرش پر تھے قدم تھے اتنے سریع تیرے عذابِ رسوائی سے بچانا غلام ہیں یا […]

مدینہ جائے قرا رِجاں ہے مدینہ مسکن ہے راحتوں کا

مدینہ جائے قرارِ جاں ہے مدینہ مسکن ہے راحتوں کا مدینہ ابرِ کرم کا محور, مدینہ مرکز ہے رحمتوں کا حبیبِ ربِ کریم ہو تم، بڑے رؤف و رحیم ہو تم میں آؤں در پر حضور والا میں منتظر ہوں اجازتوں کا مجھے ثناء گر بنایا تو نے ہنر ثناء کا سکھایا تو نے کرم […]

چشمِ نم آپ کا دیدار ہی مانگے جائے

دید کو حسنِ طرح دار ہی مانگے جائے دست بستہ ہے زباں آپ کے در پر آقا دولتِ مدحتِ سرکار ہی مانگے جائے نقشِ نعلینِ کرم بار پہ سر رکھنے کو بے خودی سنگِ درِ یار ہی مانگے جائے جذبۂ شوق مرا چشمِ بصیرت کے لئے خاکِ نعلینِ کرم بار ہی مانگے جائے معتبر ہو […]

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی

نطق کو اذنِ نبی سے ملے ترتیل کوئی وہ احد ہے کہ تجھے جس نے دیا خلقِ عظیم لائے کیسے مرے آقا تری تمثیل کوئی احمد و حامد و محمود و محمد میں ہے رفعتِ میم کی ممکن نہیں تفصیل کوئی ہر صحیفے میں ہوا ذکرِ محمد روشن ہر شبِ تار کو بخشی گئی قندیل […]

مدحِ حسنِ تام جاری کو بہ کو ہے

لمحہ لمحہ حسنِ کل کی گفتگو ہے حاصلِ نطق و بیاں ہے ذاتِ احمد آپ جیسا دوسرا نہ خوبرو ہے مقصدِ عمرِ رواں ہے نعت تیری دیدۂ حیرت کو تیری جستجو ہے مرکزِ نکہت ہے شہرِ مصطفی تو اس لیے ہر ایک کوچہ مشکبو ہے اک عجب ہی کیف میں ہے قلبِ عاصی جب سے […]

اندھیری راتیں اجال رکھیں بہ اسمِ احمد

شکستہ سانسیں بحال رکھیں بہ اسمِ احمد اندھیرے سارے اُس اسمِ اعظم سے ہی چھٹے ہیں مصیبتیں ساری ٹال رکھیں بہ اسمِ احمد جو چند سطریں بطورِ مدحِ نبی ہوئی ہیں وہ بہرِ بخشش سنبھال رکھیں بہ اسمِ احمد ملاحتیں اور صباحتیں دو جہاں میں ساری ہیں دستِ قدرت نے ڈال رکھیں بہ اسمِ احمد […]

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن

انہی کے ذکر سے ہیں یہ زمیں ،زماں روشن حضور بہرِ کرم میرے گھر میں آئیں گے کبھی تو میرا بھی ہو جائے گا مکاں روشن یہ فیض ان کے ہی نعلینِ نور بار کا ہے خرام ناز سے جن کے ہے کہکشاں روشن نقابِ نور ہے ان کے حسین چہرے پر وفورِ نور سے […]

نبی کے دم سے ہی یہ ہست و بود قائم ہیں

رواں دواں ہے جہاں اور وجود قائم ہیں ہوائے طیبہ مرے بام و در سے گزری ہے فضائے دل میں مرے مشک و عود قائم ہیں برورِ حشر ہر اک فعل مسترد ہے مگر پڑھے تھے جتنے بھی سارے درود قائم ہیں نبی کی آلِ عبا کے لہو کا ہے یہ ثمر بہ پیشِ رب […]