مدینہ منبعِ خوشبو ہے شہرِ شاہِ خوباں ہے

وہاں کا ذرہ ذرہ لعل ہے ،گوہرہے ، مرجاں ہے جھما جھم بارشِ رحمت ہوا کرتی ہے طیبہ میں کہ خود جبریل اس رحمت کدہ کا نوری درباں ہے نچھاور جان و دل اس گنبدِ خضریٰ کی رونق پر مکیں جس کا انیسِ بے کساں محبوبِ یزداں ہے مرے آقا کرم کی اک نظر قلبِ […]

جانِ کرم حضور ہیں شانِ عطا حضور

سب کے لیے ہیں سایۂ جود و سخا حضور لالے پڑے ہیں عقل کو کیسا سفر کیا لمحوں میں عرش پر ہوئے جلوہ نما حضور ملتی نہیں مثال تمھارے جمال کی ممکن نہیں تمھاری طرح دوسرا حضور نکہت ہوائے طیبہ میں ہے آپ کے سبب لہرائی ہے جو آپ کی زلفِ دوتا حضور ٹھوکر میں […]

دیارِ نور کو دل میں بسائے بیٹھا ہوں

میں اپنا سینہ مدینہ بنائے بیٹھا ہوں حصارِ کیف میں محسوس ہو رہا ہے وجود درودِ عشق لبوں پر سجائے بیٹھا ہوں عطا ہو جلوۂ زیبا قضا کے وقت مجھے ازل سے دل میں یہ حسرت جگائے بیٹھا ہوں اسی لیے ہوں میں ہر ایک فکر سے آزاد حصار نعت نبی کا لگائے بیٹھا ہوں […]

رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے

آل احمد کا وسیلہ جو عطا ہوتا ہے جوڑتا ہوں سرِ قرطاس عقیدت سے حروف اور مقصودِ سخن ان کی ثنا ہوتا ہے یک بیک شعر اترتے ہیں تری مدحت میں خامۂ عجز تری سمت جھکا ہوتا ہے مدحتِ حسنِ مکمل ہو اگر جانِ سخن بابِ انعام ہمیشہ ہی کھلا ہوتا ہے وحشتِ عرصۂ دوراں […]

سخن کو نعت کے لمعات سے روشن کئے رکھا

شہِ ابرار کے نغمات سے روشن کئے رکھا سرِ فہرست لکھا والضحی والشمس نُور اللہ اور اپنا نطق ان آیات سے روشن کئے رکھا کیا ہر بات کا آغاز ان کے نامِ عالی سے اور اپنی بات کو اس بات سے روشن کئے رکھا وہ سب لمحے جو شہرِ نور کی یادوں میں گزرے ہیں […]

مرے مولا سلیقہ مدح کا مجھ کو عطا کردے

مرے مولا سلیقہ مدح کا مجھ کو عطا کر دے قلم ، فکر و زباں ہر ایک کو محوِ ثنا کر دے حریمِ فکر سے بھی برتر و بالا ہے تیری ذات خداوندہ! ذرا بابِ ثنا مجھ پر بھی وا کر دے مرے لب پر ھواللہ ھو احد ہر دم رہے جاری ہویدا دل کی […]

یادِ نبی سے، پہلے سخن باوضو ہوا

پھر ان کا ذکر کر کے دہن سرخرو ہوا ہر بار اس طرح بھی ہوئی نعت مصطفیٰ جب مدحِ کبریا میں ادا ذکرِ ھو ہوا چشمِ زمن نے دیکھے ہیں کتنے حسیں مگر کوئی بھی آپ سا نہ شہا خوبرو ہوا جب نقش نعل دل پہ رکھا یوں لگا مجھے ہر ایک زخمِ دل مرا […]

مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

حاصلِ نطق یہ اعزاز ہوا بسم اللہ نعت کہنے کی ہی کوشش میں رہا شام و سحر اذن پھر ناز بہ انداز ہوا بسم اللہ دھڑکنیں صل علیٰ صل علیٰ پڑھتی رہیں نعتِ احمد کا یہ اعجاز ہوا بسم اللہ ویسے تو فردِ عمل خام تھی روزِ محشر نعت کہنا مرا اعزاز ہوا بسم اللہ […]

مطلعِ نعت ہے سب زورِ بیاں ہے خاموش

دل دھڑکتا ہی نہیں اور زباں ہے خاموش نامۂ زیست خسارہ ہی خسارہ تھا مگر روبرو آپ کے ہر ایک زیاں ہے خاموش جوشِ رحمت ہے نرالا سرِ محشر ان کا جائے وحشت میں جہاں جسمِ اماں ہے خاموش جب سے دیکھا ہے ترے گنبدِ اخضر کو شہا آنکھ پتھرا سی گئی سارا سماں ہے […]

مجھے بھی لائے گا شوقِ سفر ’’مواجہ‘‘ پر

شبِ فراق کی ہو گی سحر ’’مواجہ‘‘ پر زباں سے عرضِ تمنا نہ کر سکا لیکن کھڑا تھا ہاتھ، مگر باندھ کر ’’مواجہ‘‘ پر ازل سے محوِ سفر ہے ہمارا ذوقِ نظر تمام ہو گا ہمارا سفر ’’مواجہ‘‘ پر اُنہی کے جود و عطا کا جہاں میں شہرہ ہے یہی لٹاتے ہیں لعل و گہر […]