’’طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مومنو!‘‘
’’طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مومنو‘‘ اس میں اپنی زندگی ہرگز نہ ڈھالو مومنو حق کے متوالو! سنو یہ زندگی اچھی نہیں ’’تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں ‘‘
معلیٰ
’’طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مومنو‘‘ اس میں اپنی زندگی ہرگز نہ ڈھالو مومنو حق کے متوالو! سنو یہ زندگی اچھی نہیں ’’تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں ‘‘
سختیِ خورشیدِ محشر سے حفاظت بھی کریں تیرے پیارے کی خدایا! مہرِ انور ایڑیاں ’’آسمانِ نوٗر کی وہ شمسِ اظہر ایڑیاں ‘‘
اک تصور سے ہی روضہ کے مزا آتا ہے مجھ پہ سوغاتِ کرم اُس نے لٹایا ہو گا ’’ہو نہ ہو اس نے مجھے آج بُلایا ہو گا‘‘
خارِ طیبہ لے کے میں گل کی تمنا کیوں کروں کون کہتا ہے کہ ایسی آگہی اچھی نہیں ’’رہنے دیجے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں ‘‘
شامِ غم تاباں ہوئی نوری سحر کی صورت کہکشاں سے ہے سِوا اُن کے بیانات کی رات ’’کتنی روشن ہے رُخِ شہ کے خیالات کی رات‘‘
اُس کا ہر تارِ نفَس مثلِ قمر نورانی ہے وہ تو کہلاتی ہے انوار کے برسات کی رات ’’رشکِ صد بزم ہے اُس رندِ خرابات کی رات‘‘
خاکِ طیبہ میں فنا ہونے کی ہے خواہش مری اُس کو بِن دیکھے جہاں کی ہر خوشی اچھی نہیں ’’خاکِ طیبہ اچھی اپنی زندگی اچھی نہیں ‘‘
ہے ہر سوٗ روشنی جاری، انھیں کے روئے تاباں کی مٹیں جو ظلمتیں ساری ہے صدقہ ان کی رحمت کا ’’اُجالا ہے حقیقت میں انھیں کی پاک طلعت کا‘‘
قرار آتا یقیناً اس طرح سے قلبِ بسمل کو وہ رہتے دیدۂ تر میں تو رہتے قلبِ مضطر میں ’’کبھی رہتے وہ اِس گھر میں کبھی رہتے وہ اُس گھر میں ‘‘
آرزوؤں کا صحرا باغ بن کے کھل جاتا حاضری کا غم میرے دل سے مُستقل جاتا ’’کاش گنبدِ خضرا دیکھنے کو مل جاتا‘‘