’’پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشقِ مصطفا‘‘
ہر ایک سے بلند تر رتبہ اُسے تو مِل گیا حاصل اُسے بقا ہوئی اُلفت میں جو فنا ہوا ’’اُس کی خدائی ہو گئی اور وہ خدا کا ہو گیا‘‘
معلیٰ
ہر ایک سے بلند تر رتبہ اُسے تو مِل گیا حاصل اُسے بقا ہوئی اُلفت میں جو فنا ہوا ’’اُس کی خدائی ہو گئی اور وہ خدا کا ہو گیا‘‘
یورشِ کرب و ابتلا حیران دل کو کر گئی شاہِ مدینہ لیں خبر اب مجھ پہ وقت سخت ہے ’’تاب نہ مجھ میں اب رہی دل میرا لخت لخت ہے‘‘
کہ چارہ گر سے ہر اک درد کی دوا پائیں کبیدہ ہوں نہ کبھی بھی ستم کے دریا سے ’’صدا یہ آتی ہے سُن لو مزارِ مولا سے‘‘
زمانہ کس کے کرم سے ہوا ہے نورانی اُجالا پھیلا ہر اک سمت نورِ آقا سے ’’مہ و نجوم ہیں روشن منارِ طیبہ سے‘‘
سوچتے ہیں کہ اِس دل سے مٹیں غم کیسے سایۂ گیسوٗے رحمت مرے آقا دے دو ’’اپنے دامانِ کرم کا ہمیں سایا دے دو‘‘
پسند اُس کو گل کی نہ کچھ تازگی بھی کہ جو ہو گیا ہے نثارِ مدینہ ’’جنھیں بھا گیا خارزارِ مدینہ‘‘
غم و آلام سے میں ہو گیا آقا رنجور گنبدِ سبز دکھاؤ تو بہت اچھا ہو ’’اپنے قدموں میں سلاؤ تو بہت اچھا ہو‘‘
پل میں لوٹایا ہے خورشیدِ درخشاں آپ نے پتھروں نے دی گواہی اے مرے جانِ جمال ’’مرحبا صد مرحبا صلِ علیٰ شانِ جمال‘‘
ہو رہا ہے اُن پہ وہ سدرہ کا شہِ پر بھی فدا رشکِ مہر و ماہ و اختر ہیں سراسر ایڑیاں ’’مرحبا کتنی ہیں پیاری اُن کی دل بر ایڑیاں ‘‘
ہر اک کو نعمتِ دارین اُن سے ملتی ہے جو ان کے در پہ مِٹوں کام یاب ہو جاؤں ’’میں کیوں نہ وقفِ درِ آں جناب ہو جاؤں ‘‘