’’ماہِ طیبہ نیرِ بطحا ‘‘
نورِ قادرِ مطلق آقا دور ہوا سب تجھ سے اندھیرا ’’تیرے دم سے عالم چمکا ‘‘
معلیٰ
نورِ قادرِ مطلق آقا دور ہوا سب تجھ سے اندھیرا ’’تیرے دم سے عالم چمکا ‘‘
’’اے سحابِ کرم اک بوند کرم کی پڑ جائے‘‘ سوکھی کھیتی میں جو شادابیاں لے کر آئے دور ہو جائے ہر اک رنج و الم کی صورت ’’صفحۂ دل سے مرے محو ہو غم کی صورت‘‘
ظلمتِ مرقد میں پھیلے روشنی ہی روشنی تم جو ہو جلوا نما مہرِ عجم ماہِ عرب ’’رُخ سے پردا دو ہٹا مہرِ عجم ماہِ عرب‘‘
وہ جو قسمت سے درِ پاک کا درباں ہو گا ہاں ! وہی سب سے بڑا دہر میں شاداں ہو گا ’’اپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہو گا‘‘
اے میرے حُسنِ والضحیٰ ماہِ عجم مہرِ عرب ہے دل مرا ظلمت زدا ماہِ عجم مہرِ عرب ’’دے دو مرے دل کو جِلا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘
مالکِ کل کر دیا اللہ نے سرکار کو ہے جلالِ بے نہایت آپ کے دربار کا ’’کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا‘‘
ہیں وہی لاریب! جن و انس کے حاذِق طبیب پل میں رنج و غم مٹا، سب شاہ کے بیمار کا ’’جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا‘‘
کُن نگاہے لطف و رافت سوے جملہ سُنّیاں حال ابتر ہو رہا ہے آپ کے بیمار کا ’’کوئی بھی پُرساں نہیں ہے مجھ سے بد کردار کا‘‘
الطاف و عنایت کا طالب ہوں شہا کب سے جلووں سے چمک جائے اِس دل کا نہاں خانہ ’’تا حشر رہے ساقی آباد یہ مَے خانہ‘‘
عیاں زمانے پہ آقا تمہاری شوکت ہے جو شاخ لڑنے کو دو، تیغ سر بہ سر ہو جائے ’’جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہو جائے ‘‘