’’جلوۂ حُسنِ جہاں تاب کا کیا حال کہوں ‘‘
حُسنِ والشمس کی کس چیز سے تشبیہ کروں جُز خدا وصف میں انسان پریشاں ہو گا ’’آئینہ بھی تو تمہیں دیکھ کے حیراں ہو گا‘‘
معلیٰ
حُسنِ والشمس کی کس چیز سے تشبیہ کروں جُز خدا وصف میں انسان پریشاں ہو گا ’’آئینہ بھی تو تمہیں دیکھ کے حیراں ہو گا‘‘
نبی کے عشق و الفت کے ہو تم اک رہِ نما نوریؔ کہ باغِ نعت کے اک بلبلِ شیریں بیاں تم ہو ’’سخن سنج و سخن ور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو‘‘
جوانی کی عبادت ہے یقیناً باعثِ عزّت مخاطب خود سے ہو کر کہتے ہیں سب کو، کہاں تم ہو؟ ’’جو کچھ کرنا ہو اب کر لو ابھی نوریؔ جواں تم ہو‘‘
’’ گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر ‘‘ کرم فرمائیے شاہِ مدینہ ہم گداؤں پر مداوائے غمِ دوراں شہِ خیر الورا تم ہو ’’ کہ ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو ‘‘
وہ تھم جائے تصور سے آقا آپ کے فوراً معاون خود ہماری تیز تر منجدھار ہو جائے ’’اشارا آپ فرما دیں تو بیڑا پار ہو جائے‘‘
اُسی کی طاری رہے جان و دل میں مخموٗری ہو جس سے پیدا سروٗر و بہار آنکھوں میں ’’رہے ہمیشہ اُسی کا خمار آنکھوں میں ‘‘
اشارے سے تمہارے چاند بھی ہو جائے دو ٹکڑا کنواں میٹھا، جو چاہو تو شہِ ابرار ہو جائے ’’جو تم چاہو کہ شب دن ہو ابھی سرکار ہو جائے‘‘
گلوں میں، لالہ زاروں میں، چمن میں مرغ زاروں میں یقیناً باعثِ تزئینِ گلِستاں بوستاں تم ہو ’’بہاروں میں نہاں تم ہو بہاروں سے عیاں تم ہو‘‘
’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے ، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘ تبسم ایسا کہ ہنس دیں روتے، تکلم ایسا فصیح ہوں گونگے نبیِ رحمت کا حُسنِ نمکیں، کہاں شمار و حساب میں ہے ’’گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے‘‘
تیرے صدقے پا لیا سب نے خزیٖنہ نوٗر کا ہر گلِ تر نوٗر کا ہر ذرّہ ذرّہ نوٗر کا ’’تُو ہے عینِ نوٗر تیرا سب گھرانا نوٗر کا‘‘