کس جسارت سے میں اس دل کا کروں حال رقم
میں کہاں اور کہاں میرے رسولِ اکرم طاقِ ایماں میں درودوں نے جو روشن کئے ہیں ان چراغوں کو کوئی کر نہ سکے گا مدھم طالبِ چارہ ہوں اور اِذنِ سفر چاہتا ہوں میرے زخموں کو اُسی در پہ ملیں گے مرہم ہم خزاں میں بھی جو طیبہ سے پلٹ کر آئیں رنگ وہ ہوتا […]