کس جسارت سے میں اس دل کا کروں حال رقم

میں کہاں اور کہاں میرے رسولِ اکرم طاقِ ایماں میں درودوں نے جو روشن کئے ہیں ان چراغوں کو کوئی کر نہ سکے گا مدھم طالبِ چارہ ہوں اور اِذنِ سفر چاہتا ہوں میرے زخموں کو اُسی در پہ ملیں گے مرہم ہم خزاں میں بھی جو طیبہ سے پلٹ کر آئیں رنگ وہ ہوتا […]

بہجت افزائی کرے اسمِ معطر تیرا

غنچہِ حرف میں روشن ہوا پیکر تیرا وسعتیں ، تیری کرامات کی گرویدہ ہیں پانی بھرتے ہیں جہاں بھر کے سمندر، تیرا یادلے آتی ہے جب آنکھوں میں ابرِنیساں دل کی سیپی میں چمک اٹھتا ہے گوہر تیرا رنگ و انوار سے معمور تھی” ہستی” کتنی دیکھ کر اُٹّھی تھی جب چہرہِ انور تیرا عشق […]

اب کے محفل جو گاؤں میں ہوگی

نعت تاروں کی چھاؤں میں ہوگی تم بہارِ درود مہکاؤ سبز رنگت خزاؤں میں ہوگی جارہا ہوں سوئے مدینہ میں اب خجالت نہ پاؤں میں ہوگی ہاتھ اُٹھّیں گے ان کے روضے پر کتنی طاقت دعاؤں میں ہوگی پھول مدحت کا لب پہ جاگا ہے کوئی تتلی ہواؤں میں ہوگی استغاثہ مراد پائے گا خامشی […]

یہ عشق یونہی ہمیشہ نوازشات کرے

ذرا سی دُوری پہ دل میرا ، نعت نعت کرے شجر پہ بیٹھے پرندے بھی تیری نعت پڑھیں ہوا چلے تو ترا ذکر پات پات کرے ردائے گل پہ وضو کر کے پڑھ رہی ہے درود سحر کو باغ میں خوشبو سے کون بات کرے سفر ہو دونوں جہانوں کا اور ملنا بھی خدا کے […]

دلوں پہ یہ جو اثر گفتگو سے چھایا ہے

ہنر یہ لہجے میں مدحت کے بعد آیا ہے حذر نہ کر کہ زمانہ ہے باخبر اس سے گرا نہیں جسے سرکار نے اٹھایا ہے ہے اس کی چھاؤں کی ٹھنڈک تمام عالم پر درخت آپ نے جو دشت میں لگایا ہے جبینِ لو کو ہوا چومتی ہے ناز کے ساتھ دئیے پہ آپ کے […]

کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف

صد برگِ عشق رکھا ہے میں نے ، بجائے حرف رحمت کی اک نوید تھا ہر لختِ لفظِ کُن منظر نمائے خیر تھی گویا ، صدائے حرف قرطاس پر اُتَرنے کو بے تاب ہیں خیال آقا کریں قبُول تو خامہ ، سجائے حرف تاباں ہے ایسے مدح نگاری میں سطر سطر ہر لفظ نے لگائی […]

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد وثمود

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد و ثمود ثنا کی گونج گھروں میں لبوں پہ وردِ درُود متاعِ مال ہو اولاد ہو کہ خواہشِ عیش نثار ان کی رضا پر تمام دولتِ بود مرے پڑے تھے جہالت کے اندھے کہروں میں سو پھر سے آپکی آمد نے کی ہماری نمود کلیدِ فکرِ سخن ہے ثنائے […]

جمالِ عرشِ معلیٰ بِنائے ہفت اقلیم

سلام تجھ پہ ہزاروں، حبیبِِ ربِّ کریم نگارِ شعر پہ صد برگ کھلنے والے ہیں خیالِ نعت کو چھُو کر گئی ہے بادِ شمیم فرازِ عرش پہ بیری کا پیڑ لام کی حد پھر اس کے آگے ہیں تا لامکاں الف اور میم جبین مانگتی ہے جس کے نعل کی مٹی سلام کرتا ہے اس […]

بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے

گھر نہیں جاتا وہ کافر جو ترے درسے اُٹھے اک تجلی سے ہوا حسنِ تجلی کا ظہور اور پھر سارے نظارے اسی منظر سے اُٹھے اسی بھائی کو لقب سجتا ہے مولائی کا جو ترے کاندھوں پہ بیٹھے ترے بستر سے اُٹھے کتنے حاکم تھے جو پہنچے نہ تری گرد تلک کتنے عالم تری قامت […]

وصف یہ بھی ہے مرے مولا تجھی کو زیبا

اپنے محبوب کو تخلیق کیا سب سے جدا تیری قدرت کو عیاں کرتا ہےدشتِ خاموش تیری تسبیج بیاں کرتا ہے بہتا دریا کیوں نہ فی احسنِ تقویم پہ قرباں جائیں شکر صد شکر کہ مٹی سے ہمیں پیدا کیا تو کہ پردوں کے جزیروں میں کہیں پنہاں تھا ہم کو اس دل کے سمندر سے […]