یہ روایت یہاں کردار کی رکھی جائے

سر سے تزئین، سرِ دار کی رکھی جائے کربلا کچھ بھی نہیں عصر سے کہتے ہیں حسینؑ کوئی مشکل میرے معیار کی رکھی جائے دیں محمد کا بچانا ہو تو مانندِ حسینؑ مرتبت حیدرِ کرّار سے رکھی جائے جب کہ سب کہتے ہیں اس وقت ہمارا ہے حسینؑ دل میں الفت اُسی سرکار کی رکھی […]

نعت سے عشقِ پیہم کی خوشبو آئے

سانس سے دونوں عالم کی خوشبو آئے پھُونک درودِ پاک پیالے کے اندر چائے میں سے زم زم کی خوشبو آئے گنبد برگِ گل بن جائے آنکھوں میں دل سے اجلے موسم کی خوشبو آئے آقا ، آپ ہیں وہ تصویر رسالت کی جس سے پورے البم کی خوشبو آئے ہستی باغ ہو ان کی […]

اُن سا تو دو جہان میں ان کے سوا کہیں نہیں

ہیں تو حسیں بہت مگر اُن سا کوئی حسیں نہیں ان کی ہے جو پناہ میں کوئی بھی دل ، حزیں نہیں ان کے چمن کو دیکھ لیں ، پھول جو شبنمیں نہیں خاک پہ آپ کا قدم اپنے لئے ہے آسماں قدسیوں کو بھی ہے خبر اپنی زمیں ، زمیں نہیں آپ کی بات […]

سلام اس پر جو ہے جمالِ دوامِ ہستی

سلام اس پر ہے جس سے روشن مقام ہستی سلام اس پر جواں بہارِ عدن ہے جس سے سلام اس پر رواں ہے جس سے نظامِ ہستی سلام اس پر زمیں ہے جس سے پیامِ جنت سلام اس پر حسیں ہے جس سے سلامِ ہستی سلام اس پر ہے تمکنت جس سے کارواں میں سلام […]

جمالِ شاہِ امم لاکھ بار بسم اللہ

نثار آپ پہ جانِ بہار بسم اللہ درود پڑھتی رہیں دم بہ دم کھلی آنکھیں ہزار بار کہے خواب زار بسم اللہ دکھائی دے گا نگاہوں کو جب رُخِ اقدس لبوں سے نکلے گا بے اختیار بسم اللہ عطا ہو میری اداسی کو فیضیابی حضور کہ پڑھ رہا ہے مرا انتطار بسم اللہ گلی مدینے […]

وہ جس تجلی سے پھُوٹا ہے زندگی کا سراغ

اسی کی ضَو سے درخشاں ہے آگہی کا سراغ بہ فیضِ عشقِ محمد یہ سلسلہ ہُوا ہے وگرنہ خاک پہ ہوتا نہ آدمی کا سراغ بڑے وثوق سے پیغمبروں نے دی ہے نِوید سو آئنہ تھا ازل سے مرے نبِی کا سراغ نظر نواز ہے واں حسنِ جادہءِ سیرت جہاں پہ خُو کو میسر ہے […]

سجا ہوا ہے لبوں پر درود بسم اللہ

مدام ہے یہی کارِ سعود بسم اللہ زباں پہ لاتی ہیں جب بھی صدا کو دو مِیمیں تو ہونٹ بنتے ہیں تارِ سرود بسم اللہ سلامتی ہے سراسر مرے حضور کا دِین بصد نیاز، حدود و قیود بسم اللہ کلی سے پھول ہُوا عشق اور مہک جاگی ادائے رنگ میں بست و کشود بسم اللہ […]

ریاضِ نعت میں دل مدح خوان رحمت ہے

ہر ایک شعر گلِِ زعفرانِ رحمت ہے زمیں پہ آپ کا در آسمانِ رحمت ہے اور اس سے آگے تو بس لامکانِ رحمت ہے ہمارا دین شجر ہے وہ جس کی شاخوں کا ہر ایک گل ہی گلِ عاشقانِ رحمت ہے سمندروں میں ہوا بھی ہے کشتیوں کی کنیز کہ ان کے ساتھ ترا بادبانِ […]

فردوس سی ہے جلوہ نمائی ترے در کی

ہے مسندِ بے مثل چٹائی ترے در کی سلطان بھی کرتے ہیں گدائی ترے در کی خالق نے ہے خود شان بڑھائی ترے در کی بینائی پہ روشن ہوا باطن کا اندھیرا ان آنکھوں میں جب خاک لگائی ترے در کی کیا میری مودت کو گرائے مرا دشمن دیوار ہے یہ سیسہ پلائی ترے در […]

حزن وملال میں ہے سہارا حضور کا

حزن و ملال میں ہے سہارا حضور کا کافی ہے مغفرت کو حوالہ حضور کا ضَو بار سربسر ہیں تصور سے چشم و دل اک عالمِ تجلی ہے چہرہ حضور کا یہ ہے کمال، وہ ہیں رسولوں میں آخری پَر پہلا پاؤں خلد میں ہوگا حضور کا منت پذیر ان کا ہے یہ کاروبارِِ ہست […]