ردائے ظلمتِ شب پل میں پھاڑ کر تو نے
نکالی گردشِ ایام کی سحر تو نے میرا عقیدہ ہے، ایسا ہے قادرِ مطلق جو سنگ ریزے تھے ان کو کیا گہر تو نے جو مضطرب رکھے اس کو جگر کے ٹکڑے پر دیا ہے ماں کو وہی عشقِ معتبر تو نے رسولِ صادق و مصدوق و امّی کے ذریعے بدل دی خیرِ مکمل سے […]