معراج نامہ از امام احمد رضا خان بریلوی

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے بہار ہے شادیاں مبارک، چمن کو آبادیاں مبارک مَلَک فلک اپنی اپنی لَے میں یہ گھُر عنادل کا بولتے تھے وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں اُدھر […]

فروغِ علم کی یا رب کتاب کر دے عطا

سوال کا جو مکمل جواب کر دے عطا کریم ذات پہ تیری مجھے بھروسہ ہے ہر اک گنہ سے مجھے اجتناب کر دے عطا مرے جہاں کو جو سیرابِ آرزو کر دیں مجھے تو اپنے کرم کا سحاب کر دے عطا حضور تیرے جو مشکل سوال میں رکھّوں نبی کے صدقے میں اس کا جواب […]

خام ہے خامہ جو لفظِ حق نما لکھتا نہیں

سینہ قرطاس پر کرب و بلا لکھتا نہیں جسم میں بے فیض لگتا ہے مجھے ایسا لہو لوح دل پر جو غم شاہ ہدیٰ لکھتا نہیں کیسا ما تھا ہے؟ یہ کہتے تھے حسین ابن علیؑ جو کہ سجدہ گاہ پر صبر و رضا لکھتا نہیں مومن آل محمد کا بھی ہے پختہ اصول بیعتِ […]

طاہر و اطہر زبان مصطفیٰ

ارفع و اعلیٰ بیان مصطفیٰ کھول کر دیکھو کتاب کائنات یہ ہے ساری داستان مصطفیٰ زندگی کے جمگھٹے میں آج بھی سب سے اعلیٰ خاندان مصطفیٰ ان کے دم سے بس رہی ہے کائنات ہر جگہ ہے آستان مصطفیٰ ہے قیامت تک ولایت کا وجود چل رہا ہے کاروان مصطفیٰ وہ کسی ادنیٰ کی بیعت […]

شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا

مرا ہر شعری مجموعہ بھرے گلدان جیسا تھا رہ عشقِ نبی میں نور سے ہر سانس روشن تھی وہاں پر ہر پڑاؤ منزلِ عرفان جیسا تھا کسی زائر سے پوچھا ، کیسا پایا شہر آقا کو جواب آیا کہ منظر خلد کے دالان جیسا تھا دلوں پر لکھ دیا قرآں ترے حسن تکلم نے مؤثر […]

جب تذکرہ شاہ زمین و زمن چلے

خوشبو درود پڑھتی سر انجمن ملے خیرالوریٰ کے جشن پر لکھنے لگوں جو نعت قرطاس پر قلم بھی لئے بانکپن چلے قرآں میں درج حسن کمالات کی قسم حسن نبی کا ذکر سخن در سخن چلے لازم ہے امتی پہ اطاعت حضور کی کردار میں حضور کا لے کے چلن چلے ہر سمت جائے کرتی […]

خیالِ نعت تھا یا الفتِ سرکار کی بارش

دلِ تاریک روشن کر گئی انوار کی بارش دلوں کی کھیتیاں سرسبز ہو کر لہلہا اُٹھیں اثر کرتی گئی جن پر تری گفتار کی بارش جمی رہتی ہیں جن میں محفلیں ذکرِ پیغمبر کی برستی ان گھروں پر ہے سدا مہکار کی بارش عقیدے کی زمیں بنجر نہیں آباد دیکھیں گے تسلسل سے اگر ہوتی […]

یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر

اے ابرِ کرم، خشک زراعت پہ کرم کر تو فیض کا مبدا ہے، توّجہ کوئی دم کر گم نام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے اقلیمِ سخن میرے قلمرو سے نہ جائے ہر باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری بلبل کی زباں پر […]

کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا

کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا مطلعِ دوم جب باغِ جہاں اکبرِ ذی […]

حضور ہی ہیں چراغ وحدت، درود ان پر سلام ان پر

حضور ہی ہیں چراغ وحدت ، درود ان پر سلام ان پر زباں پہ میری ہے ان کی مدحت ، درود ان پر سلام ان پر ملی ہے ان سے رہ ہدایت ، درود ان پر سلام ان پر مرے نبی ہیں شفیع امت ، درود ان پر سلام ان پر جو سارے نبیوں کے […]