آنکھ کو چھُو کے پسِ حدِ گماں جاتی ہے
روشنی گنبدِ اخضر کی کہاں جاتی ہے؟ مژدۂ اذن سے مربوط ہے طیبہ کا سفر آرزو روز کراں تا بہ کراں جاتی ہے ربط موقوف نہ ہو آپ کی مدحت سے مرا ایسا سوچوں بھی تو آقا ! مری جاں جاتی ہے اُن کے دامانِ عنایت کی پنہ مِل جائے نارسا ہاتھ ہیں اور میری […]