شوق تدبیر کرے اور زباں ساتھ نہ دے
محضرِ نعت میں کچھ تابِ بیاں ساتھ نہ دے شعر کے اوج پہ کیسے مَیں لکھوں نعتِ نبی میرے احساس کا جب نُطقِ رواں ساتھ نہ دے لکھنا تو چاہتا ہُوں منظرِ معراج، مگر اوجِ ایقاں پہ کوئی حرفِ گماں ساتھ نہ دے لے کے بیٹھا ہُوں تخیّل کے اُفق پر خامہ تیری رفعت کا […]