مدینہ شہرِ دلنشیں ہے نُور بار، مُشکبو
یہ بام و در ہیں ضَو فشاں، وہ رہگُزار مُشکبو عجیب کیف بار ہے خیالِ عرصۂ لقا تمام رات گُلبدن ہے، انتظار مُشکبو کریم تیری نعت نے بھرم رکھا ہے نُطق کا سخن کے آس پاس ہے کھِلا حصار، مُشکبو جہان بھر تو اوڑھ کر قبائے حرص ہے پڑا مگر جہاں حضور ہیں، وہ اِک […]