پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی

پھر اشکوں سے کچھ شرحِ جذبات ہوتی دمِ دید پھر جلوہء نو بہ نو سے مرے چشم و دل کی مدارات ہوتی مدینے کی پُرنور دلکش فضا میں نظر محوِ دیدِ مقامات ہوتی مدینہ کے احباب ہمراہ ہوتے شبِ ماہ میں سیرِ باغات ہوتی خبر کچھ نہ رہتی زمین و زماں کی وہ محویتِ خاص […]

بر سرم کوہِ گناہے یارسول

پیشِ لطفت برگِ کاہے یارسول بر منِ خستہ جگر ہم کُن کرم از سرِ لطف نگاہے یارسول گر سلامِ ما چو یابد یک جواب پس بود ایں عزو جاہے یارسول نیست در کونین ہمچو من گدا ہر دو عالم چوں تو شاہے یارسول بر درت باپشت دو تا آمد بستہ ام بارِ گناہے یارسول بر […]

اگر اے نسیمِ سحر ترا! ہو گزر دیار ِحجاز میں

مری چشمِ تر کا سلام کہنا حضورِ بندہ نواز میں تمہیں حدِ عقل نہ پاسکی فقط اتنا حال بتا سکی کہ تم ایک جلوہء راز تھے جو نہاں ہے رنگِ مجاز میں نہ جہاں میں راحتِ جاں ملی ، نہ متاعِ امن و اماں ملی جو دوائے دردِ نہاں ملی ، تو ملی بہشتِ حجاز […]

نہیں قیدِ رنج وغم سے کوئی صورتِ رہائی

اے غیاث مستغیثاں ترے نام کی دُہائی ہے ظہورِ پاک تیرا ہمہ شانِ کبریائی تو زفہمِ من بلندی تو زفکرِ من ورائی بہ مقامِ مصطفائی بہ مقامِ مجتبائی بہ خیالِ من نہ گنجی بہ گمانِ من نہ آئی وہ سکندری سے بہتر وہ تونگری سے بہتر ترے در سے جو ملی ہے مجھے لذتِ گدائی […]

سبز و شاداب گلستانِ تمنا ہووے

کاش مسکن مِرا صحرائے مدینہ ہووے مجھ کو بھی روضہ ء اقدس کی زیارت ہو نصیب زہے قسمت جو سفر کُوئے مدینہ ہووے جب کہیں قافلے والے ، کہ مدینہ کو چلے شوق میں پھر تو مرا اور ہی نقشہ ہووے ایسی صورت میں درِ شاہِ عرب تک پہنچوں حال جیسے کسی ناچیز گدا کا […]

اب کے برس بھی کیفیت میں ڈوبا رہے قلم

اب کے برس بھی وادی بطحا کے پھول دے اب کے برس بھی رتجگے نعتوں کے کر عطا اب کے برس بھی اذن ثنائے رسول دے یارب ! فضائے جبر کا دامن ہو تار تار آنگن میں عافیت کی ہوائے خنک چلے یارب! حصار خوف سے نکلوں میں اس برس یارب! برہنہ سر ہوں میں […]

تخیل کو وضو دے کر لکھوں تیری ثنا مولا

نہیں ممکن بیاں لیکن یہ ہے تیری عطا مولا جہاں تک سوچتا ہوں تو ہی تو اعلی و اکرم ہے تیری مدح کہ تو افضل ہوا بعد از خدا مولا تیری مدح میں ہیں شامل ملائک لم یزل کے ساتھ ہوا ہے حکم ہم کو بھی کرو صل علی مولا دہائی ہے کہ محشر میں […]

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو مجھ پُر خطا کی لاج تمہارے ہی ہاتھ ہے مجھ ننگ دو جہاں کا وسیلہ تمہی تو ہو جو دستگیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے جس […]

خوشا کہ دیدہ و دل میں ہے جائے آلِ رسول

زہے کہ وردِ زبان ہے ثنائے آلِ رسول اساسِ دینِ مبیں ہے وِلائے آلِ رسول جو سچ کہوں تو ہے ایماں عطائے آلِ رسول لئے ہے دامنِ دل میں عطائے آلِ رسول تونگروں سے غنی ہے گدائے آلِ رسول بہشت و کوثر و جامِ طہور کی ضامن صدائے آلِ محمد، نوائے آلِ رسول میں بُوترابی […]

مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

مجھ سا ناچیز درِ شاہِ امم تک پہنچا ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا (قربان یارسول اللہ آپ کی اس کمالِ کرم نوازی […]