تُوں دُنیا دے باغ دا
سبھ دا داتا سبھ دا والی دو جگ تائیں پالن والا ہر آفت نُوں ٹالن والا ہر شئے تے لکھیا ناں تیرا دم دم چرچا تھاں تھاں تیرا جس نُوں چاہویں عزت دیویں جس نُوں چاہویں ذلت دیویں
معلیٰ
سبھ دا داتا سبھ دا والی دو جگ تائیں پالن والا ہر آفت نُوں ٹالن والا ہر شئے تے لکھیا ناں تیرا دم دم چرچا تھاں تھاں تیرا جس نُوں چاہویں عزت دیویں جس نُوں چاہویں ذلت دیویں
جو لفظ قرآن ہو گیا ہے ، وہ میرا ایمان ہوگیا ہے جو ان کے تلووں سے لگ گئے ہیں وہ ذرّے خورشید بن گئے ہیں جو ان کے قدموں نے چھو لیا ہے وہ سنگ مرجان ہو گیا ہے یہ وقت کی نبض تھم گئی کیوں ؟ خموش کیوں ہے نظام ہستی ملک ہیں […]
میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو دوعالم سے بہتر ہے شفیعِ روزِ محشر ابجدِ شبیر و شبر ہے فضیلت جس کی درکِ حضرتِ عیسی سے باہر ہے حمید ہے زورِ مدحِ مصطفی کہ بادِ سر سر ہے ترا ہر لفظ جیسے کہ کوئی جبریل کا پر ہے میں کیوں جاؤں مدینہ میرا پیکر خود […]
کہ بن مانگے دیا تونے مجھے ایمان یا اللہ یہ دشت و کوہ و دریا ہیں مظاہر تیری قدرت کے جہاں کا ذرہ ذرہ ہے تری پہچان یا اللہ جہاں کے ذرے ذرے پر فقظ تیری خدائی ہے ترے آگے ہیں سجدہ ریز انس و جان یا اللہ ترے دربارِ عالی کے سوا خم ہو […]
تو ہی مَلِکْ اور بَرُّ و کَرِیْمْ خَالِقْ اور مُھَیْمِنْ تو عَدْلُ و حَکَمْ اور مُؤْمِنْ تو تو ہی مُعِزُّ و مُذِلُّ و بَصِیْرْ تو ہی سَلَامُ و عَزِیْزُ و خَبِیْرْ خَافِضُ و رَافِعْ اور وَہَّابْ جَامِعُ و مَانِعْ اور تَوَّابْ بَاعِثُ و حَقُّ و وَلِیُّ و شَہِیْدْ وَارِثُ و حَیُّ و عَلِیُّ و حَمِیْدْ […]
غلامِ مصطفی خود کو بنایا ترے فرمان کو دل میں بسایا جہاں میں مرتبہ تب ہم نے پایا خدا سے اور کیا مانگوں محمد خدا نے امتی تیرا بنایا کہ دل میں دم نہیں باقی رہا اب مدینہ بهیج دے مجھ کو خدایا ترے محبوب سے ملنا ہے مجھ کو اجل کو بهیج دے پروردگارا […]
شیشۂ دل میں اے عکسِ گنبدِ اخضر اتر جذب کے امکان میں لا اب کوئی موجِ طرب خواب کے احساس میں اے منظرِ دلبر اُتر اُن کو آنا ہے نئے لمحوں کی آرائش کے ساتھ میرے آنگن میں سحَر اب صورتِ دیگر اُتر سوچ بے خود، سَر نہفتہ، حرفِ مدحت منفعل نقشِ نعلینِ کرم تُو […]
بسا ہُوا ہے وہ شہرِ نگار آنکھوں میں نظر میں رہتے ہیں کھِلتے ہُوئے وہ باغِ تمَر کہ جیسے رہتی ہو تازہ بہار آنکھوں میں اُنہیں زمانوں میں بستے ہیں زیست کے لمحے رکھے ہُوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں پسِ خیال اُترتے ہیں قافلے پیہم قطار باندھے وہ ناقہ سوار، آنکھوں میں […]
اوقات کہاں میری لکھوں تیرا قصیدہ بیدار ہوا تجھ سے زمانوں کا مقدر آزاد ہوئے دشت کے آشوب رسیدہ چوکھٹ پہ تری ٹوٹا فسوں طرز ِ کہن کا اک نعرہء یک رنگ بنی فکر ِ پریدہ قدموں میں ترے آن گرے کوہِ گراں بھی ہیبت سے تری خاک ہوئے تخت ِ دمیدہ اے خاصہء خاصاں، […]
جھکاؤ نظریں ، بچھاؤ پلکیں ، ادب کا اعلیٰ مقام آیا یہ کون سر سے کفن لپیٹے ، چلا ہے الفت کے راستے پر فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں یہ کون ذی احترام آیا فضا میں لبیک کی صدائیں ، ز فرش تا عرش گونجتی ہیں ہر ایک قربان ہو رہا ہے ، زباں […]